کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: سجدہ سہو کا بیان۔
حدیث نمبر: 1008
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ ، قَالَ : فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهِمَا إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ ، ثُمَّ خَرَجَ سَرْعَانُ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ وَفِي النَّاسِ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ ، فَقَامَ رَجُلٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّيهِ : ذَا الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَسِيتَ أَمْ قُصُرَتِ الصَّلَاةُ ؟ قَالَ : " لَمْ أَنْسَ ، وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ " قَالَ : بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالَ : " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " فَأَوْمَئُوا ، أَيْ نَعَمْ ، " فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَقَامِهِ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ " . قَالَ : فَقِيلَ لِمُحَمَّدٍ : سَلَّمَ فِي السَّهْوِ ، فَقَالَ : لَمْ أَحْفَظْهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَلَكِنْ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ : ثُمَّ سَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شام کی دونوں یعنی ظہر اور عصر میں سے کوئی نماز پڑھائی مگر صرف دو رکعتیں پڑھا کر آپ نے سلام پھیر دیا ، پھر مسجد کے اگلے حصہ میں لگی ہوئی ایک لکڑی کے پاس اٹھ کر گئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر لکڑی پر رکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ کا اثر ظاہر ہو رہا تھا ، پھر جلد باز لوگ یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم کر دی گئی ہے ، نماز کم کر دی گئی ہے ، لوگوں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے لیکن وہ دونوں آپ سے ( اس سلسلہ میں ) بات کرنے سے ڈرے ، پھر ایک شخص کھڑا ہوا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین کہا کرتے تھے ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہ میں بھولا ہوں ، نہ ہی نماز کم کی گئی ہے “ ، اس شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ بھول گئے ہیں ، پھر آپ لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے پوچھا : ” کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں ؟ “ ، لوگوں نے اشارہ سے کہا : ہاں ایسا ہی ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر واپس آئے اور باقی دونوں رکعتیں پڑھائیں ، پھر سلام پھیرا ، اس کے بعد «الله أكبر» کہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا ، پھر «الله أكبر» کہہ کر سجدے سے سر اٹھایا پھر «الله أكبر» کہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا دوسرا سجدہ کیا پھر «الله أكبر» کہہ کر اٹھے ۔ راوی کہتے ہیں : تو محمد سے پوچھا گیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کے بعد پھر سلام پھیرا ؟ انہوں نے کہا : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مجھے یہ یاد نہیں ، لیکن مجھے خبر ملی ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا ہے : آپ نے پھر سلام پھیرا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1008
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (573)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساجد 19 (573)، (تحفة الأشراف: 14415)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 88 (482)، والأذان 69 (714)، والسھو 3 (1227)، 4 (1228)، 85 (1367)، والأدب 45 (6051)، وأخبار الآحاد 1 (7250)، سنن الترمذی/الصلاة 180 (399)، سنن النسائی/السھو 22 (1225)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 134 (1214)، مسند احمد (2/237، 284) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1009
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ بِإِسْنَادِهِ ، وَحَدِيثُ حَمَّادٍ أَتَمُّ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ يَقُلْ : بِنَا ، وَلَمْ يَقُلْ : فَأَوْمَئُوا ، قَالَ : فَقَالَ النَّاسُ : نَعَمْ ، قَالَ : ثُمَّ رَفَعَ وَلَمْ يَقُلْ : وَكَبَّرَ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ وَتَمَّ حَدِيثُهُ " ، لَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَوْمَئُوا إِلَّا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكُلُّ مَنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ لَمْ يَقُلْ : فَكَبَّرَ وَلَا ذَكَرَ رَجَعَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس طریق سے بھی محمد بن سیرین سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے` اور حماد کی روایت زیادہ کامل ہے مالک نے «صلى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم» کہا ہے «صلى بنا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم» نہیں کہا ہے اور نہ ہی انہوں نے «فأومئوا» کہا ہے ( جیسا کہ حماد نے کہا ہے بلکہ اس کی جگہ ) انہوں نے «فقال الناس نعم» کہا ہے ، اور مالک نے «ثم رفع» کہا ہے ، «وكبر» نہیں کہا ہے جیسا کہ حماد نے کہا ہے ، یعنی مالک نے «رفع وكبر» کہنے کے بجائے صرف «رفع» پر اکتفا کیا ہے اور مالک نے «ثم كبر وسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع» کہا ہے جیسا کہ حماد نے کہا ہے اور مالک کی حدیث یہاں پوری ہو گئی ہے اس کے بعد جو کچھ ہے مالک نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ ہی لوگوں کے اشارے کا انہوں نے ذکر کیا ہے صرف حماد بن زید نے اس کا ذکر کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث جتنے لوگوں نے بھی روایت کی ہے کسی نے بھی لفظ «فكبر‏.‏» نہیں کہا ہے اور نہ ہی «رجع.‏» کا ذکر کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1009
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (714)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأذان 69 (714)، السہو 4(1228)، أخبار الآحاد 1(7250)، سنن الترمذی/الصلاة 176 (399)، سنن النسائی/السہو 22 (1225)، (تحفة الأشراف: 14449)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 15 (60)، مسند احمد (2/235، 423) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1010
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ،حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَمَّادٍ كُلِّهِ إِلَى آخِرِ قَوْلِهِ : نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ : ثُمَّ سَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَالتَّشَهُّدُ ، قَالَ : لَمْ أَسْمَعْ فِي التَّشَهُّدِ ، وَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَتَشَهَّدَ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ : كَانَ يُسَمِّيهِ ذَا الْيَدَيْنِ ، وَلَا ذَكَرَ : فَأَوْمَئُوا ، وَلَا ذَكَرَ : الْغَضَبَ ، وَحَدِيثُ حَمَّادٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، أَتَمُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ، پھر راوی نے پورے طور سے حماد کی روایت کے ہم معنی روایت ان کے قول : «نبئت أن عمران بن حصين قال ثم سلم» تک ذکر کی ۔ سلمہ بن علقمہ کہتے ہیں : میں نے ان سے ( یعنی محمد بن سیرین سے ) پوچھا کہ آپ نے تشہد پڑھا یا نہیں ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے تشہد کے سلسلے میں کچھ نہیں سنا ہے لیکن میرے نزدیک تشہد پڑھنا بہتر ہے ، لیکن اس روایت میں ” آپ انہیں ذوالیدین کہتے تھے “ کا ذکر نہیں ہے اور نہ لوگوں کے اشارہ کرنے کا اور نہ ہی ناراضگی کا ذکر ہے ، حماد کی حدیث جو انہوں نے ایوب سے روایت کی ہے زیادہ کامل ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1010
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, صححه ابن خزيمة (1035)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/السہو 4 (1228)، (تحفة الأشراف: 144689) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1011
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ ، وَابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ ذِي الْيَدَيْنِ ، " أَنَّهُ كَبَّرَ وَسَجَدَ ، وَقَالَ هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ كَبَّرَ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ،وَحُمَيْدٌ ، وَيُونُسُ ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَا ذَكَرَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، " أَنَّهُ كَبَّرَ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ " . وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ هِشَامٍ ، لَمْ يَذْكُرَا عَنْهُ هَذَا الَّذِي ذَكَرَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ " أَنَّهُ كَبَّرَ ، ثُمَّ كَبَّرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالیدین کے قصہ میں روایت کی ہے کہ` آپ نے «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا ، ہشام بن حسان کی روایت میں ہے کہ آپ نے «الله أكبر» کہا پھر «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو حبیب بن شہید ، حمید ، یونس اور عاصم احول نے بھی محمد بن سیرین کے واسطہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ، ان میں سے کسی نے بھی اس چیز کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے بواسطہ ہشام کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا ، پھر «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا ، حماد بن سلمہ اور ابوبکر بن عیاش نے بھی اس حدیث کو بواسطہ ہشام روایت کیا ہے مگر ان دونوں نے بھی ان کے واسطہ سے اس کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے ذکر کیا ہے کہ آپ نے «الله أكبر» کہا پھر «الله أكبر» کہا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1011
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (482)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (1008)، (تحفة الأشراف: 14415،14469) (شاذ) » (ہشام بن حسان نے متعدد لوگوں کے برخلاف روایت کی ہے)
حدیث نمبر: 1012
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : " وَلَمْ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ حَتَّى يَقَّنَهُ اللَّهُ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی واقعہ مروی ہے` اس میں ہے : ” اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو نہیں کیا یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اس کا کامل یقین دلا دیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1012
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, محمد بن كثير الصنعاني ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 48
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13192، 15205، 14115) (ضعیف) » (اس کے راوی محمد بن کثیر مصیصی کثیر الغلط ہیں)
حدیث نمبر: 1013
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : " وَلَمْ يَسْجُدِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تُسْجَدَانِ إِذَا شَكَّ حَتَّى لَقَاهُ النَّاسُ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي بِهَذَا الْخَبَرِ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، وَعِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ،وَالْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَن أَبِيه جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ " أَنَّهُ سَجَدَ السَّجْدَتَيْنِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِيهِ : " وَلَمْ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ نے انہیں خبر دی کہ` انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سجدوں کو جو شک کی وجہ سے کئے جاتے ہیں نہیں کیا یہاں تک کہ لوگوں نے آپ کو ان کی یاددہانی کرائی ۔ ابن شہاب کہتے ہیں : اس حدیث کی خبر مجھے سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطے سے دی ہے ، نیز مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن ، ابوبکر بن حارث بن ہشام اور عبیداللہ بن عبداللہ نے بھی خبر دی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے یحییٰ بن ابوکثیر اور عمران بن ابوانس نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے اور علاء بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد سے روایت کیا ہے اور ان سبھوں نے اس واقعہ کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے لیکن اس میں انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ نے دو سجدے کئے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے زبیدی نے زہری سے ، زہری نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے اور ابوبکر بن سلیمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ، اس میں ہے کہ آپ نے سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1013
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, صححه ابن خزيمة (1043 وسنده صحيح) وله شاھد صحيح عند النسائي (1232ب)
تخریج حدیث « سنن النسائی/السہو 22 (1232)، (تحفة الأشراف: 13180، 15192) (صحیح) » (صحیح مرفوع احادیث سے تقویت پاکر یہ مرسل حدیث بھی صحیح ہے )
حدیث نمبر: 1014
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الظُّهْرَ فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ، فَقِيلَ لَهُ : نَقَصْتَ الصَّلَاةَ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی تو دو ہی رکعت پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ نے نماز کم کر دی ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں اور پڑھیں پھر ( سہو کے ) دو سجدے کئے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1014
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (715)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأذان 69 (715)، السہو 3 (1227)، سنن النسائی/ السہو (22 (1228) (تحفة الأشراف: 14952)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/386، 468) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1015
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَسَدٍ ، أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ ، فَقَالَ لَه رَجُلٌ : أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ ؟ قَالَ : " كُلَّ ذَلِكَ لَمْ أَفْعَلْ " ، فَقَالَ النَّاسُ : قَدْ فَعَلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَلَمْ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : " ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کی دو ہی رکعتیں پڑھ کر پلٹ گئے تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں کی ہے “ ، تو لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ نے ایسا کیا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد والی دونوں رکعتیں پڑھیں ، پھر پلٹے اور سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے داود بن حصین نے ابوسفیان مولی بن ابی احمد سے ، ابوسفیان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قصہ کے ساتھ روایت کیا ہے ، اس میں ہے : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو سجدے کئے ۔
وضاحت:
۱؎: «ثم انصرف ولم يسجد سجدتي السهو» (پھر آپ پلٹے اور سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے) کا ٹکڑا ’’شاذ‘‘ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1015
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ السهو , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه مسلم (573)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (1008) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1016
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ الْهِفَّانِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، بِهَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : " ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ضمضم بن جوس ہفانی کہتے ہیں کہ` مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہی حدیث بیان کی ہے اس میں ہے : ” پھر آپ نے سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کئے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1016
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, عكرمة بن عمار صرح بالسماع عند النسائي (1331 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن النسائی/السہو 22 (1225)، (تحفة الأشراف: 13514)، وقد أخرجہ مسند احمد (2/423) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 1017
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ سِيرِينَ " ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تو دو ہی رکعت میں آپ نے سلام پھیر دیا ، پھر انہوں نے محمد بن سیرین کی حدیث کی طرح جسے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ذکر کیا ، اس میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کئے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1017
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه ابن ماجه (1213 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 134 (1213)، (تحفة الأشراف: 7838) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1018
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، حَدَّثَنَا أَبُو قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ، ثُمَّ دَخَلَ ، قَالَ : عَنْ مَسْلَمَةَ الْحُجَرَ ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : الْخِرْبَاقُ ، كَانَ طَوِيلَ الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ لَهُ : أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ ، فَقَالَ : " أَصَدَقَ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْهَا ، ثُمَّ سَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا ، پھر اندر چلے گئے ۔ مسدد نے مسلمہ سے نقل کیا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں چلے گئے تو ایک شخص جس کا نام خرباق تھا اور جس کے دونوں ہاتھ لمبے تھے اٹھ کر آپ کے پاس گیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا نماز کم کر دی گئی ہے ؟ ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کھینچتے ہوئے غصے کی حالت میں باہر نکلے اور لوگوں سے پوچھا : ” کیا یہ سچ کہہ رہا ہے ؟ “ ، لوگوں نے کہا : ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رکعت پڑھی ، پھر سلام پھیرا ، پھر سہو کے دونوں سجدے کئے پھر سلام پھیرا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1018
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (574)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساجد 19 (574)، سنن النسائی/السھو 23 (1237، 1238)، 75 (1332)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 134 (1215)، (تحفة الأشراف: 10882)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/427، 429، 435، 437، 440، 441) (صحیح) »