کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: امام کو سلام کا جواب دینا۔
حدیث نمبر: 1001
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَمَاهِرِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : " أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرُدَّ عَلَى الْإِمَامِ ، وَأَنْ نَتَحَابَّ ، وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں امام کے سلام کا جواب دینے اور آپس میں دوستی رکھنے اور ایک دوسرے کو سلام کرنے کا حکم دیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1001
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (922), قتادة عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 47
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 30 (922)، (تحفة الأشراف: 4597) (ضعیف) » (اس کے روای سعید شامی ضعیف ہیں اور قتادہ اور حسن بصری مدلس ہیں نیز: حسن بصری کا سمرة سے حدیث عقیقہ کے سوا سماع ثابت نہیں )