کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: درمیانی تشہد کو مختصر رکھنا۔
حدیث نمبر: 995
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ ، قَالَ : قُلْتُ : حَتَّى يَقُومَ ؟ قَالَ : حَتَّى يَقُومَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دو رکعتوں میں یعنی پہلے تشہد میں اس طرح ہوتے تھے گویا کہ گرم پتھر پر ( بیٹھے ) ہیں ۔ شعبہ کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا : کھڑے ہونے تک ؟ تو سعد بن ابراہیم نے کہا : کھڑے ہونے تک ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ آخری قعدہ کی بہ نسبت پہلے قعدہ میں آپ جلدی کھڑے ہو جاتے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 995
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (366) ابن ماجه (1177), قال الترمذي : ’’ حسن،إلا أن أبا عبيدة لم يسمع من أبيه ‘‘ ! فالسند منقطع, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 47
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 158 (366)، سنن النسائی/التطبیق 105 (1177)، (تحفة الأشراف: 9609)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/386، 410، 428، 436، 460) (ضعیف) » (ابوعبیدہ کا اپنے والد سے سماع نہیں ہے )