کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 987
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ ، قَالَ : رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصَى فِي الصَّلَاةِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَهَانِي ، وَقَالَ : اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ، فَقُلْتُ : وَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ؟ قَالَ : " كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُمْنَى ، وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا ، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُسْرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن عبدالرحمٰن معاوی کہتے ہیں` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے ہوئے دیکھا ، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے اس سے منع کیا اور کہا : تم نماز میں اسی طرح کرو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے ، میں نے عرض کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بیٹھتے تو اپنی داہنی ہتھیلی اپنی داہنی ران پر رکھتے اور اپنی تمام انگلیاں سمیٹ لیتے اور شہادت کی انگلی جو انگوٹھے سے متصل ہوتی ہے ، اشارہ کرتے ۱؎ اور اپنی بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے سلام پھیرنے تک برابر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کا ثبوت ملتا ہے، اشارہ کرنے کے بعد انگلی کے گرا لینے یا «لا إله» پر اٹھانے اور «إلا الله» پر گرا لینے کی کوئی دلیل حدیث میں نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 987
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (580)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساجد 21 (580)، سنن النسائی/التطبیق 98 (1161)، والسھو 32 (1267) 33 (1268)، (تحفة الأشراف: 7351)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 11(48)، سنن الدارمی/الصلاة 83 (1378) (صحیح) »
حدیث نمبر: 988
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ فِي الصَّلَاةِ جَعَلَ قَدَمَهُ الْيُسْرَى تَحْتَ فَخْذِهِ الْيُمْنَى وَسَاقِهِ ، وَفَرَشَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُمْنَى وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ " . وَأَرَانَا عَبْدُ الْوَاحِدِ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں داہنی ران اور پنڈلی کے نیچے کرتے اور داہنا پاؤں بچھا دیتے اور بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھتے اور اپنا داہنا ہاتھ اپنی داہنی ران پر رکھتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے ، عبدالواحد نے ہمیں شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے دکھایا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 988
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (579)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساجد 21 (579)، سنن النسائی/التطبیق 99 (1162)، والسھو 35 (1271)، 39 (1276)، (تحفة الأشراف: 5263)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/3) (صحیح) »
حدیث نمبر: 989
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ زِيَادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ ذَكَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا وَلَا يُحَرِّكُهَا " . قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَزَادَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ :أَخْبَرَنِي عَامِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَدْعُو كَذَلِكَ ، وَيَتَحَامَلُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُسْرَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارے کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے ۱؎ ۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھے عامر نے اپنے والد کے واسطہ سے خبر دی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح تشہد پڑھتے دیکھا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے کا جملہ شاذ ہے جیسا کہ تخریج سے ظاہر ہے اس کے برخلاف صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی کو اٹھانے کے بعد اسے حرکت دے دے کر دعا کرتے اور فرماتے تھے کہ یہ شہادت کی انگلی شیطان پر لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 989
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ بقوله ولا يحركها , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (1271), ابن عجلان عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 47
تخریج حدیث « سنن النسائی/السہو 35 (1271)، (تحفة الأشراف: 5264)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/3) (شاذ) » ( «ولا يحركها» کے جملہ کے ساتھ شاذ ہے) « قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَزَادَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرٌ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم يَدْعُو كَذَلِكَ، وَيَتَحَامَلُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُسْرَى (صحیح) »
حدیث نمبر: 990
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : " لَا يُجَاوِزُ بَصَرُهُ إِشَارَتَهُ " . وَحَدِيثُ حَجَّاجٍ أَتَمُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس طریق سے بھی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : آپ کی نظر اشارہ سے آگے نہیں بڑھتی تھی اور حجاج کی حدیث ( یعنی پچھلی حدیث ) زیادہ مکمل ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 990
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, ابن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (4/3)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5264) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 991
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ قُدَامَةَ مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَاضِعًا ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، رَافِعًا إِصْبَعَهُ السَّبَّابَةَ قَدْ حَنَاهَا شَيْئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا داہنا ہاتھ اپنی داہنی ران پر رکھے ہوئے اور شہادت کی انگلی کو اٹھائے ہوئے دیکھا ، آپ نے اسے تھوڑا سا جھکا رکھا تھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 991
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه النسائي (1272 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (715، 716 وسندھما حسن) مالك بن نمير وثقه ابن حبان وابن خزيمة بتصحيح حديثه فھو حسن الحديث
تخریج حدیث « سنن النسائی/السھو 36 (1272)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 27 (911)، (تحفة الأشراف: 11710)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/471) (ضعیف) » (اس کے راوی مالک لین الحدیث ہیں) »