کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 950
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالٍ يَعْنِي ابْنَ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ " فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا ، فَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى رَأْسِي ، فَقَالَ : " مَا لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ؟ " ، قُلْتُ : حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَّكَ قُلْتَ : " صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ " ، وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا ، قَالَ : " أَجَلْ وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` مجھ سے بیان کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” بیٹھ کر پڑھنے والے شخص کی نماز آدھی نماز ہے “ ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے ( تعجب سے ) اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” عبداللہ بن عمرو ! کیا بات ہے ؟ “ ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے : ” بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو نصف ثواب ملتا ہے “ اور آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں سچ ہے ، لیکن میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی میرا معاملہ تمہارے جیسا نہیں ہے مجھے بیٹھ کر پڑھنے میں بھی پورا ثواب ملتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 950
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (735)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المسافرین 16 (735)، سنن النسائی/قیام اللیل 18 (1660)، (تحفة الأشراف: 8937)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 141 (1229)، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة 6 (19)، مسند احمد (2/162، 192، 201، 203)، سنن الدارمی/الصلاة 108 (1424) (صحیح) »
حدیث نمبر: 951
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا ، فَقَالَ : " صَلَاتُهُ قَائِمًا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا ، وَصَلَاتُهُ قَاعِدًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِهِ قَائِمًا ، وَصَلَاتُهُ نَائِمًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے شخص کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : ” آدمی کا کھڑے ہو کر نماز پڑھنا بیٹھ کر نماز پڑھنے سے افضل ہے اور بیٹھ کر نماز پڑھنے میں کھڑے ہو کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ہے ۱؎ اور لیٹ کر پڑھنے میں بیٹھ کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ملتا ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے تندرست آدمی نہیں بلکہ مریض مراد ہے کیونکہ انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس آئے جو بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے آدھا ہے ‘‘۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 951
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1115)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 17 (1115)، 18 (1116)، 19 (1117)، سنن الترمذی/الصلاة 162 (371)، سنن النسائی/قیام اللیل 19 (1661)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 141 (1231)، (تحفة الأشراف: 10831)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/433، 435، 442، 443) (صحیح) »
حدیث نمبر: 952
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : كَانَ بِي النَّاصُورُ ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " صَلِّ قَائِمًا ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` مجھے ناسور تھا ۱؎ ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا : ” تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو ، اگر کھڑے ہو کر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر بیٹھ کر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو ( لیٹ کر ) پہلو کے بل پڑھو “ ۔
وضاحت:
۱؎: باء اور نون دونوں کے ساتھ اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے باسور مقعد کے اندرونی حصہ میں ورم کی بیماری کا نام ہے اور ناسور ایک ایسا خراب زخم ہے کہ جب تک اس میں فاسد مادہ موجود رہے تب تک وہ اچھا نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 952
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1117)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/ الصلاة 157 (372)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 139 (1223)، (تحفة الأشراف: 10832) (صحیح) »
حدیث نمبر: 953
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا قَطُّ حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ ، فَكَانَ يَجْلِسُ فِيهَا فَيَقْرَأُ حَتَّى إِذَا بَقِيَ أَرْبَعُونَ أَوْ ثَلَاثُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا ، ثُمَّ سَجَدَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز کبھی بیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ عمر رسیدہ ہو گئے تو اس میں بیٹھ کر قرآت کرتے تھے پھر جب تیس یا چالیس آیتیں رہ جاتیں تو انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے پھر سجدہ کرتے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 953
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1118) صحيح مسلم (731)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/تقصیرالصلاة 20 (1118)، صحیح مسلم/المسافرین 16 (731)، سنن الترمذی/الصلاة 163 (372)، سنن النسائی/قیام اللیل 16 (1650)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 140 (1227)، (تحفة الأشراف: 16903، 16867)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ صلاة الجماعة 7 (23)، مسند احمد (6/46، 83، 127، 231) (صحیح) »
حدیث نمبر: 954
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ ، وَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ رَكَعَ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ عَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تو بیٹھ کر قرآت کرتے تھے ، پھر جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرآت رہ جاتی تو کھڑے ہو جاتے ، پھر انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے ، پھر رکوع کرتے اور سجدہ کرتے ، پھر دوسری رکعت میں ( بھی ) اسی طرح کرتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث علقمہ بن وقاص نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 954
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1119) صحيح مسلم (731)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/ تقصیر الصلاة 20 (1119)، صحیح مسلم/المسافرین 16 (731)، سنن الترمذی/الصلاة 158 (374)، سنن النسائی/قیام اللیل 16 (1649)، (تحفة الأشراف: 17709، 17732)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة 7 (23)، مسند احمد (6/178) (صحیح) »
حدیث نمبر: 955
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ بُدَيْلَ بْنَ مَيْسَرَةَ ، وَأَيُّوبَ يُحَدِّثَانِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا ، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کبھی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر ، جب کھڑے ہو کر پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 955
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (730)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المسافرین 16 (731)، سنن النسائی/قیام اللیل 16 (1647)، (تحفة الأشراف: 16201،16203)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/100، 227، 261، 265) (صحیح) »
حدیث نمبر: 956
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ السُّورَةَ فِي رَكْعَةٍ ؟ قَالَتْ : الْمُفَصَّلَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَكَانَ يُصَلِّي قَاعِدًا ؟ قَالَتْ : حِينَ حَطَمَهُ النَّاسُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری سورت ایک رکعت میں پڑھتے تھے ؟ انہوں نے کہا : ( ہاں ) مفصل کی ، پھر میں نے پوچھا : کیا آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے ؟ انہوں نے کہا : جس وقت لوگوں ( کے کثرت معاملات ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکستہ ( یعنی بوڑھا ) کر دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 956
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح م دون الشطر الثاني منه , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (732)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المسافرین 16 (732)، (تحفة الأشراف: 16220)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/171، 204) (صحیح) الشطر الثاني منہ »