حدیث نمبر: 943
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبُّوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُشِيرُ فِي الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اشارہ کرتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے بوقت ضرورت نماز میں اشارے کا جواز ثابت ہوتا ہے جیسے اشارے سے سلام کا جواب دینا وغیرہ۔
حدیث نمبر: 944
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ ، يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ ، مَنْ أَشَارَ فِي صَلَاتِهِ إِشَارَةً تُفْهَمُ عَنْهُ فَلْيَعُدْ لَهَا ، يَعْنِي الصَّلَاةَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا الْحَدِيثُ وَهْمٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سبحان الله “ کہنا مردوں کے لیے ہے یعنی نماز میں اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہیں ، جس نے اپنی نماز میں کوئی ایسا اشارہ کیا کہ جسے سمجھا جا سکے تو وہ اس کی وجہ سے اسے لوٹائے یعنی اپنی نماز کو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث وہم ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت جس میں عصر کے بعد دو رکعتوں کے پڑھنے کا ذکر ہے اور ام المومنین عائشہ و جابر رضی اللہ عنہما کی روایتیں جن میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیماری میں بیٹھ کر نماز پڑھائی تو لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے انہیں بیٹھ جانے کے لئے کہا دونوں روایتیں اس کے مخالف ہیں۔