حدیث نمبر: 729
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشِّتَاءِ ، فَرَأَيْتُ أَصْحَابَهُ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي ثِيَابِهِمْ فِي الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں سردی کے موسم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ نماز میں ( سردی کی وجہ سے ) اپنے کپڑوں کے اندر ہی رفع یدین کرتے ۔
حدیث نمبر: 730
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ أَبُو قَتَادَةَ ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : فَلِمَ فَوَاللَّهِ ؟ مَا كُنْتَ بِأَكْثَرِنَا لَهُ تَبَعًا وَلَا أَقْدَمِنَا لَهُ صُحْبَةً ، قَالَ : بَلَى ، قَالُوا : فَاعْرِضْ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا ، ثُمَّ يَقْرَأُ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلَا يَصُبُّ رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ، فَيَقُولُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلًا ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ وَيَسْجُدُ ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ ، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ ، ثُمَّ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ " ، قَالُوا : صَدَقْتَ ، هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالحمید بن جعفر کہتے ہیں کہ مجھے محمد بن عمرو بن عطاء نے خبر دی ہے کہ` میں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کرام کے درمیان جن میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے کہتے سنا : میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں ، لوگوں نے کہا : وہ کیسے ؟ اللہ کی قسم آپ ہم سے زیادہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے تھے ، نہ ہم سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں آئے تھے ۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں یہ ٹھیک ہے ( لیکن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز زیادہ یاد ہے ) اس پر لوگوں نے کہا : ( اگر آپ زیادہ جانتے ہیں ) تو پیش کیجئیے ۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے ، پھر تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر سیدھی ہو جاتی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآت کرتے ، پھر «الله أكبر» کہتے ، اور دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کر لیتے ، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے ، اور رکوع میں پیٹھ اور سر سیدھا رکھتے ، سر کو نہ زیادہ جھکاتے اور نہ ہی پیٹھ سے بلند رکھتے ، پھر اپنا سر اٹھاتے اور «سمع الله لمن حمده» کہتے ، پھر اپنا دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ سیدھا ہو کر انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کرتے پھر «الله أكبر» کہتے ، پھر زمین کی طرف جھکتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں پہلووں سے جدا رکھتے ، پھر اپنا سر اٹھاتے اور اپنے بائیں پیر کو موڑتے اور اس پر بیٹھتے اور جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں پیر کی انگلیوں کو نرم رکھتے اور ( دوسرا ) سجدہ کرتے پھر «الله أكبر» کہتے اور ( دوسرے سجدہ سے ) اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آ جاتی ، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے پھر جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو «الله أكبر» کہتے ، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل لے جاتے جس طرح کہ نماز شروع کرنے کے وقت «الله أكبر» کہا تھا ، پھر اپنی بقیہ نماز میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب اس سجدہ سے فارغ ہوتے جس میں سلام پھیرنا ہوتا ، تو اپنے بائیں پیر کو اپنے داہنے پیر کے نیچے سے نکال کر اپنی بائیں سرین پر بیٹھتے ( پھر سلام پھیرتے ) ۔ اس پر ان لوگوں نے کہا : آپ نے سچ کہا ، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے ۔
حدیث نمبر: 731
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْعَامِرِيّ ، قَالَ : كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَذَاكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَقَالَ : فَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ كَفَّيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ غَيْرَ مُقْنِعٍ رَأْسَهُ وَلَا صَافِحٍ بِخَدِّهِ ، وَقَالَ : فَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلَى بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى ، فَإِذَا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَفْضَى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى إِلَى الْأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَةٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن عمرو ( بن عطاء ) عامری کہتے ہیں کہ` صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک مجلس میں تھا ، ان لوگوں نے آپس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا ، تو ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا ... ، پھر راوی نے اسی حدیث کا بعض حصہ ذکر کیا ، اور کہا : ” جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر جماتے اور اپنی انگلیوں کے درمیان کشادگی رکھتے ، پھر نہ اپنی پیٹھ کو خم کرتے ، نہ سر کو اونچا کرتے ، نہ منہ کو دائیں یا بائیں جانب موڑتے ( بلکہ سیدھا قبلہ کی جانب رکھتے ) ، پھر جب دو رکعت کے بعد بیٹھتے تو بائیں پاؤں کے تلوے پر بیٹھتے اور داہنا پاؤں کھڑا رکھتے ، پھر جب آپ چوتھی رکعت میں ہوتے ، تو اپنی بائیں سرین زمین پر لگاتے اور دونوں پاؤں ایک جانب ( یعنی داہنی جانب ) نکالتے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی تورک کرتے۔
حدیث نمبر: 732
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ ، وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، نَحْوَ هَذَا ، قَالَ : فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلَا قَابِضِهِمَا ، وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ الْقِبْلَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی محمد بن عمرو بن عطاء سے اسی طرح مروی ہے ، اس میں ہے` ” جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھتے ، نہ ہی انہیں بچھاتے اور نہ ہی انہیں سمیٹے رکھتے ، اور اپنی انگلیوں کے کناروں سے قبلہ کا استقبال کرتے “ ۔
حدیث نمبر: 733
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ ، حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَحَدِ بَنِي مَالِكٍ ، عَنْ عَبَّاسٍ ، أَوْ عَيَّاشِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَبُوهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْمَجْلِسِ أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ، وَأَبُو أُسَيْدٍ ، بِهَذَا الْخَبَرِ يَزِيدُ أَوْ يَنْقُصُ ، قَالَ فِيهِ : ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ يَعْنِي مِنَ الرُّكُوعِ ، فَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ فَسَجَدَ فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ ، ثُمَّ كَبَّرَ فَجَلَسَ فَتَوَرَّكَ وَنَصَبَ قَدَمَهُ الْأُخْرَى ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ ، ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ قَامَ بِتَكْبِيرَةٍ ، ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ ، وَلَمْ يَذْكُرِ التَّوَرُّكَ فِي التَّشَهُّدِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عباس بن سہل ساعدی یا عیاش بن سہل ساعدی کہتے ہیں کہ` وہ ایک مجلس میں تھے ، جس میں ان کے والد بھی تھے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے ، مجلس میں ابوہریرہ ، ابو حمید ساعدی ، اور ابواسید رضی اللہ عنہم بھی تھے ، پھر انہوں نے یہی حدیث کچھ کمی و زیادتی کے ساتھ روایت کی ، اس میں ہے : ” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور «سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد» کہا ، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ، پھر «الله اكبر» کہا اور سجدے میں گئے اور سجدے کی حالت میں اپنی دونوں ہتھیلیوں ، گھٹنوں اور اپنے دونوں قدموں کے اگلے حصہ پر جمے رہے ، پھر «الله اكبر» کہہ کر بیٹھے تو تورک کیا ( یعنی سرین پر بیٹھے ) اور اپنے دوسرے قدم کو کھڑا رکھا ، پھر «الله اكبر» کہا اور سجدہ کیا ، پھر «الله اكبر» کہا اور ( سجدہ سے اٹھ کر ) کھڑے ہو گئے ، اور سرین پر نہیں بیٹھے “ ۔ پھر راوی عباس رضی اللہ عنہ نے ( آخر تک ) حدیث بیان کی اور کہا : پھر آپ دونوں رکعتوں کے بعد بیٹھے ، یہاں تک کہ جب ( تیسری رکعت کے لیے ) اٹھنے کا قصد کیا تو «الله اكبر» کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے ، پھر بعد والی دونوں رکعتیں ادا کیں ۔ اور راوی ( عیسیٰ بن عبداللہ ) نے تشہد میں تورک کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 734
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، أَخْبَرَنِي فُلَيْحٌ ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالَ : اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ ، وَأَبُو أُسَيْدٍ ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا ، قَالَ : ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَأَنَّهُ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَتَجَافَى عَنْ جَنْبَيْهِ ، قَالَ : ثُمَّ سَجَدَ فَأَمْكَنَ أَنْفَهُ وَجَبْهَتَهُ وَنَحَّى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ حَتَّى فَرَغَ ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قِبْلَتِهِ وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَكَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ ، لَمْ يَذْكُرِ التَّوَرُّكَ ، وَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ فُلَيْحٍ ، وَذَكَرَ الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ نَحْوَ جِلْسَةِ حَدِيثِ فُلَيْحٍ ، وَعُتْبَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عباس بن سہل بیان کرتے ہیں کہ` ابوحمید ، ابواسید ، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے اور آپس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا تو ابوحمید نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تم لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں ، پھر انہوں نے اس کے بعض حصے کا ذکر کیا اور کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو دونوں ہاتھ دونوں گھٹنے پر رکھا گویا آپ ان کو پکڑے ہوئے ہیں اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کمان کی تانت کی طرح کیا اور انہیں اپنے دونوں پہلووں سے جدا رکھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنی ناک اور پیشانی زمین پر جمائی اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنی دونوں بغلوں سے جدا رکھا اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل رکھیں ، پھر اپنا سر اٹھایا یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آئی ( آپ نے ایسے ہی کیا ) یہاں تک کہ دوسری رکعت کے دونوں سجدوں سے فارغ ہو گئے پھر بیٹھے تو اپنا بایاں پیر بچھا لیا اور داہنے پیر کی انگلیاں قبلہ رخ کیں اور دائیں گھٹنے پر داہنی اور بائیں گھٹنے پر بائیں ہتھیلی رکھی اور اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو عتبہ بن ابوحکیم نے عبداللہ بن عیسٰی سے انہوں نے عباس بن سہل سے روایت کیا ہے ، اور اس میں تورک کا ذکر نہیں کیا ہے ، اور اسے فلیح کی حدیث کی طرح ( بغیر تورک کے ) ذکر کیا ہے ، اور حسن بن حر نے فلیح بن سلیمان اور عتبہ کی حدیث میں مذکور بیٹھک کی طرح ذکر کیا ۔
حدیث نمبر: 735
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : وَإِذَا سَجَدَ فَرَّجَ بَيْنَ فَخِذَيْهِ غَيْرَ حَامِلٍ بَطْنَهُ عَلَى شَيْءٍ مِنْ فَخِذَيْهِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، سَمِعْتُ عَبَّاسَ بْنَ سَهْلٍ يُحَدِّثُ فَلَمْ أَحْفَظْهُ ، فَحَدَّثَنِيهِ أُرَاهُ ذَكَرَ عِيسَى بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ ، قَالَ : حَضَرْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس طریق سے بھی ابوحمید رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے ، اس میں ہے` ” جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنے پیٹ کو اپنی دونوں رانوں کے کسی حصہ پر اٹھائے بغیر اپنی دونوں رانوں کے درمیان کشادگی رکھی “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن مبارک نے روایت کیا ہے ، ابن مبارک سے فلیح نے بیان کیا ہے ، فلیح کہتے ہیں : میں نے عباس بن سہل کو بیان کرتے سنا تو میں اسے یاد نہیں رکھ سکا ۔ ابن مبارک کہتے ہیں : فلیح نے مجھ سے بیان کیا ، میرا خیال ہے کہ فلیح نے عیسیٰ بن عبداللہ کا ذکر کیا کہ انہوں نے اسے عباس بن سہل سے سنا ہے ، وہ کہتے ہیں : میں ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے یہی حدیث روایت کی ۔
حدیث نمبر: 736
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : فَلَمَّا سَجَدَ وَقَعَتَا رُكْبَتَاهُ إِلَى الْأَرْضِ قَبْلَ أَنْ تَقَعَ كَفَّاهُ ، قَالَ : فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ جَبْهَتَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ وَجَافَى عَنْ إِبِطَيْهِ ، قَالَ حَجَّاجٌ ، وَقَالَ هَمَّامٌ وحَدَّثَنَا شَقِيقٌ ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ هَذَا ، وَفِي حَدِيثِ أَحَدِهِمَا وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، وَإِذَا نَهَضَ نَهَضَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَاعْتَمَدَ عَلَى فَخِذِيهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے` ” جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو آپ کے دونوں گھٹنے آپ کی ہتھیلیوں سے پہلے زمین پر پڑے ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے تو اپنی پیشانی کو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان رکھا ، اور اپنی دونوں بغلوں سے علیحدہ رکھا “ ۔ حجاج کہتے ہیں : ہمام نے کہا : مجھ سے شقیق نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں : مجھ سے عاصم بن کلیب نے بیان کیا ، عاصم نے اپنے والد کلیب سے ، کلیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے ۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کی حدیث میں ، اور غالب گمان یہی ہے کہ محمد بن حجادہ کی حدیث میں یوں ہے : ” جب آپ سجدے سے اٹھے تو اپنے دونوں گھٹنوں پر اٹھے اور اپنی ران پر ٹیک لگایا “ ۔
حدیث نمبر: 737
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ إِبْهَامَيْهِ فِي الصَّلَاةِ إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں اپنے دونوں انگوٹھے اپنے دونوں کانوں کی لو تک اٹھاتے ۔
حدیث نمبر: 738
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ لِلصَّلَاةِ جَعَلَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، وَإِذَا رَكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَإِذَا رَفَعَ لِلسُّجُودِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کرتے ، اور جب رکوع کرتے تو بھی اسی طرح کرتے ، اور جب رکوع سے سجدے میں جانے کے لیے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے ، اور جب دو رکعت پڑھ کر ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوتے تو بھی اسی طرح کرتے ۔
حدیث نمبر: 739
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ ، عَنْ مَيْمُونٍ الْمَكِّيِّ ، أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَصَلَّى بِهِمْ ، يُشِيرُ بِكَفَّيْهِ حِينَ يَقُومُ وَحِينَ يَرْكَعُ وَحِينَ يَسْجُدُ وَحِينَ يَنْهَضُ لِلْقِيَامِ فَيَقُومُ فَيُشِيرُ بِيَدَيْهِ ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : إِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى صَلَاةً لَمْ أَرَ أَحَدًا يُصَلِّيهَا ، فَوَصَفْتُ لَهُ هَذِهِ الْإِشَارَةَ ، فَقَالَ : " إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْتَدِ بِصَلَاةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´میمون مکی سے روایت ہے کہ` انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو نماز کے لیے کھڑے ہوتے وقت اور رکوع کرنے کے وقت اور سجدہ اور قیام کے لیے اٹھتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا ، تو میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور جا کر میں نے ان سے کہا کہ میں نے ابن زبیر کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا کہ کسی اور کو اس طرح پڑھتے نہیں دیکھا ، پھر میں نے ان سے اس اشارہ کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا : اگر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو دیکھنا چاہتے ہو تو عبداللہ بن زبیر کی نماز کی پیروی کرو ۔
حدیث نمبر: 740
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ كَثِيرٍ يَعْنِي السَّعْدِيَّ ، قَالَ : " صَلَّى إِلَى جَنْبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَكَانَ إِذَا سَجَدَ السَّجْدَةَ الْأُولَى فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْهَا رَفَعَ يَدَيْهِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ لِوُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ ، فَقَالَ لَهُ وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ : تَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُ ، فَقَالَ ابْنُ طَاوُسٍ : رَأَيْتُ أَبِي يَصْنَعُهُ ، وَقَالَ أَبِي : رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَصْنَعُهُ ، وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نضر بن کثیر بیان کرتے ہیں کہ` عبداللہ بن طاؤس نے مسجد خیف میں میرے بغل میں نماز پڑھی ، جب آپ نے پہلا سجدہ کیا ، اور اس سے اپنا سر اٹھایا تو اپنے چہرے کے بالمقابل انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تو مجھے یہ عجیب سا لگا ، چنانچہ میں نے وہیب بن خالد سے اس کا تذکرہ کیا تو وہیب نے عبداللہ بن طاؤس سے کہا : آپ ایک ایسا کام کر رہے ہیں جسے میں نے کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا ؟ ! تو عبداللہ بن طاؤس نے کہا : میں نے اپنے والد کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ایسا کرتے دیکھا ، اور ان کے متعلق بھی مجھے یہی معلوم ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے ۔
حدیث نمبر: 741
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ " ، وَيَرْفَعُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : الصَّحِيحُ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ لَيْسَ بِمَرْفُوعٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَى بَقِيَّةُ أَوَّلَهُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَأَسْنَدَهُ وَرَوَاهُ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأَوْقَفَهُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ فِيهِ : وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ يَرْفَعُهُمَا إِلَى ثَدْيَيْهِ ، وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، وَمَالِكٌ ، وَأَيُّوبُ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ مَوْقُوفًا ، وَأَسْنَدَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَحْدَهُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَيُّوبُ ، وَمَالِكٌ الرَّفْعَ : إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ ، وَذَكَرَهُ اللَّيْثُ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ فِيهِ : قُلْتُ لِنَافِعٍ : أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَجْعَلُ الْأُولَى أَرْفَعَهُنَّ ؟ قَالَ : لَا سَوَاءً ، قُلْتُ : أَشِرْ لِي ؟ فَأَشَارَ إِلَى الثَّدْيَيْنِ أَوْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` وہ جب نماز میں داخل ہوتے تو «الله اكبر» کہتے ، اور جب رکوع کرتے اور «سمع الله لمن حمده» کہتے تو رفع یدین کرتے یعنی دونوں ہاتھ اٹھاتے ، اور جب دونوں رکعتوں سے اٹھتے تو رفع یدین کرتے یعنی دونوں ہاتھ اٹھاتے ، اسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : صحیح یہی ہے کہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے ، مرفوع نہیں ہے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : بقیہ نے اس حدیث کا ابتدائی حصہ عبیداللہ سے روایت کیا ہے ، اور اسے مرفوعاً روایت کیا ہے ، اور ثقفی نے بھی اسے عبیداللہ سے روایت کیا ہے مگر ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ٹھہرایا ہے ، اس میں یوں ہے : ” جب آپ دونوں رکعت پوری کر کے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھ دونوں چھاتیوں تک اٹھاتے “ ، اور یہی صحیح ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے لیث بن سعد ، مالک ، ایوب اور ابن جریج نے موقوفاً روایت کیا ہے ، صرف حماد بن سلمہ نے اسے ایوب کے واسطے سے مرفوعاً روایت کیا ہے ، ایوب اور مالک نے اپنی روایت میں دونوں سجدوں سے تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے وقت رفع یدین کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے ، البتہ لیث نے اپنی روایت میں اس کا ذکر کیا ہے ۔ ابن جریج نے اپنی روایت میں یہ بھی کہا ہے کہ میں نے نافع سے پوچھا : کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما پہلی بار میں ہاتھ زیادہ اونچا اٹھاتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : نہیں ، بلکہ ہر مرتبہ برابر اٹھاتے تھے ۔ میں نے کہا : اشارہ کر کے مجھے بتاؤ تو انہوں نے دونوں چھاتیوں تک یا اس سے بھی نیچے تک اشارہ کیا ۔
وضاحت:
۱؎: ان سندوں سے یہ حدیث موقوف ہے، لیکن حدیث نمبر (۷۲۱) میں اس کے مرفوع ہونے کی صراحت ہے۔
حدیث نمبر: 742
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، " أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلَاةَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا دُونَ ذَلِكَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : لَمْ يَذْكُرْ رَفَعَهُمَا دُونَ ذَلِكَ أَحَدٌ غَيْرُ مَالِكٍ فِيمَا أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع کہتے ہیں کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس سے کم اٹھاتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جہاں تک مجھے معلوم ہے مالک کے علاوہ کسی نے «رفعهما دون ذلك» ( انہیں یعنی ہاتھوں کو اس سے کم یعنی مونڈھے سے نیچے اٹھاتے ) کا ذکر نہیں کیا ہے ۔