کتب حدیث ›
سنن ابي داود › ابواب
› باب: نمازی کے آگے کسی بھی چیز کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی اس کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 719
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ ، وَادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی ، اور جہاں تک ہو سکے گزرنے والے کو دفع کرو ، کیونکہ وہ شیطان ہے “ ۔
حدیث نمبر: 720
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَدَّاكِ ، قَالَ : مَرَّ شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَفَعَهُ ، ثُمَّ عَادَ فَدَفَعَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : إِنَّ الصَّلَاةَ لَا يَقْطَعُهَا شَيْءٌ ، وَلَكِنْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : إِذَا تَنَازَعَ الْخَبَرَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُظِرَ إِلَى مَا عَمِلَ بِهِ أَصْحَابُهُ مِنْ بَعْدِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالوداک کہتے ہیں کہ` ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ قریش کا ایک نوجوان ان کے سامنے سے گزرنے لگا ، تو انہوں نے اسے دھکیل دیا ، وہ پھر آیا ، انہوں نے اسے پھر دھکیل دیا ، اس طرح تین بار ہوا ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے کہا : نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جہاں تک ہو سکے تم دفع کرو ، کیونکہ وہ شیطان ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی دو حدیثوں میں تعارض ہو ، تو وہ عمل دیکھا جائے گا جو آپ کے صحابہ کرام نے آپ کے بعد کیا ہو ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہاں دو حدیثیں ایک دوسرے کے معارض تو ہیں مگر دوسری حدیث ’’نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی‘‘ ضعیف ہے، اس لیے دونوں میں تطبیق کے لیے اب کسی دوسری چیز کی ضرورت نہیں ہے، ہاں نماز ٹوٹ جانے سے مطلب باطل ہونا نہیں بلکہ خشوع و خضوع میں کمی واقع ہونا ہے، جمہور علماء نے یہی مطلب بیان کیا ہے، اور اسی معنی میں ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے آثار و اقوال کو لیا جائے گا جن سے یہ مروی ہے کہ ’’نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی ‘‘۔