کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: نمازی کے آگے سے کتوں کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی اس کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 718
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَادِيَةٍ لَنَا وَمَعَهُ عَبَّاسٌ فَصَلَّى فِي صَحْرَاءَ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ سُتْرَةٌ وَحِمَارَةٌ لَنَا وَكَلْبَةٌ تَعْبَثَانِ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَمَا بَالَى ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم ایک صحرا میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ کے ساتھ عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحرا ( کھلی جگہ ) میں نماز پڑھی ، اس حال میں کہ آپ کے سامنے سترہ نہ تھا ، اور ہماری گدھی اور کتیا دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھیل رہی تھیں ، لیکن آپ نے اس کی کچھ پرواہ نہ کی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها / حدیث: 718
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (754), عباس بن عبيداﷲ لم يدرك عمه الفضل بن عباس رضي اللّٰه عنھما (تهذيب التهذيب 123/5ت215) فالسند منقطع, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 38
تخریج حدیث « سنن النسائی/القبلة 7 (754)، (تحفة الأشراف: 11045)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/211، 212) (ضعیف) » (اس کے راوی عباس لین الحدیث ہیں)