کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عورتوں کی صف کا بیان اور یہ کہ وہ پہلی صف سے پیچھے ہو۔
حدیث نمبر: 678
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مردوں کی بہترین صف ( اجر و فضیلت میں ) پہلی صف ہے اور کم تر آخری صف ہے ۔ اور عورتوں کی بہترین صف وہ ہے جو سب سے آخر میں ہو اور ( اجر و فضیلت میں ) کم تر وہ ہے جو سب سے پہلی ہو “ ۔
وضاحت:
مردوں کی آخری صف عورتوں سے قریب ہوتی ہے اور عورتوں کی پہلی صف مردوں کے قریب ہوتی ہے۔ اس لیے بھی ان دونوں صفوں کو کمتر درجے کی قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ مردوں کی پہلی صف اور عورتوں کی آخری صف ایک دوسرے سے دور ہوتی ہے اس لیے ان کا اجر زیادہ ہے۔ آج کل مردوں اور عورتوں کی نماز میں باقاعدہ آڑ اور الگ حصے کا انتظام کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الصفوف / حدیث: 678
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (440)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصلاة 28 (440)، سنن الترمذی/الصلاة 52 (224)، سنن النسائی/الإمامة 32 (821)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 52 (1000)، (تحفة الأشراف: 12637، 12589، 12596، 12701)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/247، 336، 340، 366، 485)، سنن الدارمی/الصلاة 52 (1304) (صحیح) »
حدیث نمبر: 679
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ عَنِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ فِي النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو لوگ صف اول سے پیچھے رہتے ( اور اسے اپنی عادت بنا لیتے ) ہیں اللہ انہیں جہنم میں بھی پیچھے کر دے گا “ ۔
وضاحت:
یہ حکم مردوں سے مخصوص ہے اور اس میں ان کے لیے تہدید ہے جو سستی و کاہلی کی وجہ سے صف اول سے پیچھے رہتے ہیں۔ اللہ انہیں جہنم کے پچھلے درجے میں ڈالے گا۔۔۔ یا جنت میں اولین داخل ہونے والوں میں شامل نہ کرے گا۔۔۔ یا یہ معنی بھی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ گناہ گاروں کو جہنم سے نکالے گا تو انہیں آخر میں نکالے گا «اللھم انا نسالک العفو والعافیۃ» ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الصفوف / حدیث: 679
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عكرمة بن عمار مدلس وعنعن عن يحيي بن أبي كثير وتكلم الجمھور في روايته عنه أيضًا, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17786) (صحیح) » (حدیث میں واقع لفظ «في النار» کے ثبوت میں کلام ہے، ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب: 510، وتراجع الالبانی: 146)
حدیث نمبر: 680
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا ، فَقَالَ لَهُمْ : " تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي ، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ ، وَلَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پہلی صف سے پیچھے رہتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ” آگے آؤ اور میری پیروی کرو ، اور تمہارے پیچھے جو لوگ ہیں وہ تمہاری پیروی کریں ، کچھ لوگ ہمیشہ پیچھے رہا کریں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی انہیں پیچھے ڈال دے گا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت و فضل عظیم، اور بلند مرتبہ سے پیچھے کر دے گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الصفوف / حدیث: 680
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (438)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصلاة 28 (438)، سنن النسائی/الإمامة 17 (796)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 45 (978)، (تحفة الأشراف: 4309)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/19، 34، 54) (صحیح) »