کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 657
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَجُلٌ ضَخْمٌ وَكَانَ ضَخْمًا لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ ، وَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا وَدَعَاهُ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلِّ ، حَتَّى أَرَاكَ كَيْفَ تُصَلِّي فَأَقْتَدِيَ بِكَ ، فَنَضَحُوا لَهُ طَرَفَ حَصِيرٍ كَانَ لَهُمْ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ " ، قَالَ فُلَانُ بْنُ الْجَارُودِ ، لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَكَانَ يُصَلِّي الضُّحَى ؟ قَالَ : لَمْ أَرَهُ صَلَّى إِلَّا يَوْمَئِذٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک انصاری نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں بھاری بھر کم آدمی ہوں - وہ بھاری بھر کم تھے بھی ، میں آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتا ہوں ، انصاری نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ کو اپنے گھر بلایا اور کہا : آپ یہاں نماز پڑھ دیجئیے تاکہ میں آپ کو دیکھ لوں کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں ؟ تو میں آپ کی پیروی کیا کروں ، پھر ان لوگوں نے اپنی ایک چٹائی کا کنارہ دھویا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ۔ راوی کہتے ہیں : فلاں بن جارود نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے آپ کو کبھی اسے پڑھتے نہیں دیکھا سوائے اس دن کے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 657
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح خ دون قوله فصل حتى أراك كيف تصلي فأقتدي بك , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (870)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأذان 41 (670)، (تحفة الأشراف: 234)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/130، 131، 184، 291) (صحیح) »
حدیث نمبر: 658
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ الذَّارِعُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُ أُمَّ سُلَيْمٍ فَتُدْرِكُهُ الصَّلَاةُ أَحْيَانًا فَيُصَلِّي عَلَى بِسَاطٍ لَنَا وَهُوَ حَصِيرٌ نَنْضَحُهُ بِالْمَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا کی زیارت کے لیے آتے تھے ، تو کبھی نماز کا وقت ہو جاتا تو آپ ہماری ایک چٹائی پر جسے ہم پانی سے دھو دیتے تھے نماز ادا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 658
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (612)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 1330)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 20 (380)، والأذان 78 (727)، 161 (860)، 164 (871)، 167 (874)، صحیح مسلم/المساجد 48 (513)، سنن الترمذی/الصلاة 59 (331)، سنن النسائی/المساجد 43 (738)، والإمامة 19 (802)، 62 (870)، موطا امام مالک/الصلاة 9 (31)، مسند احمد (3/131، 145، 149، 164)، سنن الدارمی/الصلاة 61 (1324) (صحیح) »
حدیث نمبر: 659
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ بمعنى الإسناد والحديث ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْحَصِيرِ وَالْفَرْوَةِ الْمَدْبُوغَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی اور دباغت دیئے ہوئے چمڑوں پر نماز پڑھتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 659
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يونس بن الحارث ضعفه الجمهور وقال في التقريب(7902) ’’ ضعيف ‘‘, وفي سماع عبد اللّٰه بن سعيد من المغيرة نظر : انظر ھامش اتحاف المھرة (13/ 421), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11509)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/254) (ضعیف) » (یونس بن الحارث ضعیف ہیں اور ابوعون کے والد عبیداللہ بن سعید ثقفی مجہول ہیں، نیز مغیرہ رضی اللہ عنہ سے ان کی روایت منقطع ہے )