کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: آدمی ایک کرتے (قمیص) میں نماز پڑھے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 632
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَجُلٌ أَصِيدُ ، " أَفَأُصَلِّي فِي الْقَمِيصِ الْوَاحِدِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَازْرُرْهُ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں شکاری ہوں ، کیا میں ایک کُرتے ( قمیض ) میں نماز پڑھ سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، اور اسے ٹانک لیا کرو ( بٹن لگا لیا کرو ) ، خواہ کسی کانٹے سے ہی سہی “ ۔
وضاحت:
ظاہر ہے کہ اس سے مراد عرب کی خاص لمبی قمیص ہے۔ اگر اس کے نیچے شلوار یا چادر نہ بھی ہو تو نماز جائز ہے، بشرطیکہ ستر پوری طرح ڈھکا ہوا ہو، اگر ستر کھلنے کا اندیشہ ہو تو اسے باندھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 632
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (760), صححه ابن خزيمة (777، 778 وسنده حسن) موسيٰ بن إبراھيم صرح بالسماع عند أحمد (4/49)
تخریج حدیث « سنن النسائی/القبلة 15 (766)، (تحفة الأشراف: 4533)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/49، 54) (حسن) »
حدیث نمبر: 633
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي حَوْمَلٍ الْعَامِرِيِّ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : كَذَا قَالَ ، وَالصَّوَابُ :أَبُو حَرْمَلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَمَّنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي قَمِيصٍ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي قَمِيصٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن ابی بکر کہتے ہیں` جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ایک کرتے میں ہماری امامت کی ، ان کے جسم پر کوئی چادر نہ تھی ، تو جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کرتے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: صحیحین میں ’’ایک قمیص یا کرتا‘‘کی جگہ ’’ایک کپڑا‘‘ یا ’’ایک تہبند‘‘ کا لفظ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 633
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, العامري : مجهول (تقريب : 8068), و محمد بن عبد الرحمٰن بن أبي بكر و أبوه ضعيفان ضعفھما الجمهور،انظر تقريب التهذيب (6065،3815 مجهول) وكتب المجروحين, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 35
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 2379)، وقد أخرجہ: وقد ورد بلفظ: ’’ثوب واحد‘‘ عند: صحیح البخاری/الصلاة 3 (353)، صحیح مسلم/الصلاة 52 (518)، مسند احمد (3/293، 294) (ضعیف) » (عبدالرحمن بن أبی بکر ملیکی ضعیف ہیں، یہ حدیث صحیحین میں ’’ایک کپڑا‘‘ کے لفظ سے موجود ہے)