کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: آخری رکعت کے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد امام کا وضو ٹوٹ جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 617
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، وَبَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَضَى الْإِمَامُ الصَّلَاةَ وَقَعَدَ فَأَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ ، فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ ، وَمَنْ كَانَ خَلْفَهُ مِمَّنْ أَتَمَّ الصَّلَاةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب امام نماز پوری کر لے اور آخری قعدہ میں بیٹھ جائے ، پھر بات کرنے ( یعنی سلام پھیرنے ) سے پہلے اس کا وضو ٹوٹ جائے تو اس کی اور اس کے پیچھے جنہوں نے نماز مکمل کی ، سب کی نماز پوری ہو گئی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 617
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (408), الإ فريقي : ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 35
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 188 (408)، (تحفة الأشراف: 8610) (ضعیف) » (اس کے راوی عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں، نیز یہ حدیث اگلی صحیح حدیث کے مخالف ہے)
حدیث نمبر: 618
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ ابْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز کی کلید ( کنجی ) پاکی ہے ، اور اس کی تحریم تکبیر ہے ، اور اس کی تحلیل تسلیم ( سلام ) ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: تکبیر تحریمہ یعنی «اللہ اکبر» کہنے سے عام مشاغل حرام ہو جاتے ہیں، اور «السلام علیکم ورحمة اللہ» کہنے سے یہ مشاغل حلال ہو جاتے ہیں (وہ سارے کام جائز ہو جاتے ہیں جو نماز میں ناجائز ہو گئے تھے)۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ نماز کی ابتداء لفظ «اللہ اکبر» سے ہے اور اس سے نکلنے کے لیے «السلام علیکم ورحمة اللہ» مشروع ہے نہ کہ کوئی اور کلمات یا اعمال، پس سلام ہی کے ذریعہ آدمی کی نماز پوری ہو گی نہ کہ کسی اور چیز سے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 618
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, ابن عقيل ضعفه الجمھور وللحديث شواھد كثيرة منھا قول ابن مسعود رضي الله عنه، رواه البيهقي (2/ 16) وسنده صحيح وله حكم المرفوع، فالحديث حسن
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الطھارة 3 (3)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 3 (275)، (تحفة الأشراف: 10265)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/123)، سنن الدارمی/الطھارة 21 (713) (حسن صحیح) »