کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: امامت سے بچنا اور امامت کے لیے ایک کا دوسرے کو آگے بڑھانا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 581
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، حَدَّثَتْنِي طَلْحَةُ أُمُّ غُرَابٍ ، عَنْ عَقِيلَةَ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ مَوْلَاةٍ لَهُمْ ، عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ أُخْتِ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ الْفَزَارِيِّ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ : أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خرشہ بن حر فزاری کی بہن سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ مسجد والے آپس میں ایک دوسرے کو امامت کے لیے دھکیلیں گے ، انہیں کوئی امام نہ ملے گا جو ان کو نماز پڑھائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 581
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (982), أم غراب وعقيلة لا يعرف حالھما (تقريب 8631،8642), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 48 (982)، (تحفة الأشراف: 15898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/381) (ضعیف) » (اس کی راویہ عقیلہ اور طلحہ أم الغراب مجہول ہیں)