حدیث نمبر: 474
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، وَشُعْبَةُ ، وَأَبَانُ ، ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ ، وَكَفَّارَتُهُ أَنْ تُوَارِيَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ تم اسے ( مٹی ) میں چھپا دو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: جن مسجدوں کا فرش خام اور غیر پختہ ہوتا ہے وہاں تو یہ ممکن ہے کہ تھوک کر اسے مٹی میں دبا دیں، مگر جن مسجدوں کا فرش پختہ ہو وہاں تھوکنا بالکل منع ہے، اگر تھوکنے کی ضرورت آ ہی پڑے تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ دستی یا ٹیشو پیپر میں تھوک کر جیب میں رکھ لے تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے اور نہ مسجد گندی ہو۔
حدیث نمبر: 475
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ ، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس پر مٹی ڈال دو “ ۔
حدیث نمبر: 476
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسجد میں حلق سے بلغم نکال کر ڈالنا ... “ ، پھر راوی نے اوپر والی حدیث کے مثل ذکر کیا ۔
حدیث نمبر: 477
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَوْدُودٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ دَخَلَ هَذَا الْمَسْجِدَ فَبَزَقَ فِيهِ أَوْ تَنَخَّمَ ، فَلْيَحْفِرْ فَلْيَدْفِنْهُ ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ ، فَلْيَبْزُقْ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ لِيَخْرُجْ بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اس مسجد میں داخل ہو اور اس میں تھوکے یا بلغم نکالے تو اسے مٹی کھود کر دفن کر دینا چاہیئے ، اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو اپنے کپڑے میں تھوک لے ، پھر اسے لے کر نکل جائے “ ۔
حدیث نمبر: 478
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ الرَّجُلُ إِلَى الصَّلَاةِ ، أَوْ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلَا يَبْزُقْ أَمَامَهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلَكِنْ عَنْ تِلْقَاءِ يَسَارِهِ إِنْ كَانَ فَارِغًا أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ لِيَقُلْ بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آدمی نماز کے لیے کھڑا ہو یا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے آگے اور داہنی طرف نہ تھوکے لیکن ( اگر تھوکنا ہو اور جگہ خالی ہو ) تو بائیں طرف تھوکے یا بائیں قدم کے نیچے تھوکے پھر اسے مل دے “ ۔
حدیث نمبر: 479
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمًا إِذْ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَتَغَيَّظَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ حَكَّهَا ، قَالَ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : فَدَعَا بِزَعْفَرَانٍ فَلَطَّخَهُ بِهِ ، وَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ إِذَا صَلَّى ، فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَمَالِكٍ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ، نَحْوَ حَمَّادٍ ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرُوا الزَّعْفَرَانَ ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَأَثْبَتَ الزَّعْفَرَانَ فِيهِ ، وَذَكَرَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ الْخَلُوقَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو آپ لوگوں پر ناراض ہوئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ کر صاف کیا ۔ راوی کہتے ہیں : میرے خیال میں ابن عمر نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زعفران منگا کر اس میں رگڑ دیا اور فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے ۱؎ ، لہٰذا وہ اپنے سامنے نہ تھوکے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسماعیل اور عبدالوارث نے یہ حدیث ایوب سے اور انہوں نے نافع سے روایت کی ہے اور مالک ، عبیداللہ اور موسیٰ بن عقبہ نے ( براہ راست ) نافع سے حماد کی طرح روایت کی ہے مگر ان لوگوں نے زعفران کا ذکر نہیں کیا ہے ، اور معمر نے اسے ایوب سے روایت کیا ہے اور اس میں زعفران کا لفظ موجود ہے ، اور یحییٰ بن سلیم نے عبیداللہ کے واسطہ سے اور انہوں نے نافع کے واسطہ سے ( زعفران کے بجائے ) «خلوق» ( ایک قسم کی خوشبو ) کا ذکر کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ تعالی کی رحمت مصلی کے سامنے ہوتی ہے کیونکہ دوسری روایت میں ہے «فإن الرحمة تواجهه» ۔
حدیث نمبر: 480
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ الْعَرَاجِينَ ، وَلَا يَزَالُ فِي يَدِهِ مِنْهَا فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضَبًا ، فَقَالَ : " أَيَسُرُّ أَحَدَكُمْ أَنْ يُبْصَقَ فِي وَجْهِهِ ، إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمَلَكُ عَنْ يَمِينِهِ ، فَلَا يَتْفُلْ عَنْ يَمِينِهِ وَلَا فِي قِبْلَتِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ فَإِنْ عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ فَلْيَقُلْ هَكَذَا ، وَوَصَفَ لَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ذَلِكَ : أَنْ يَتْفُلَ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ يَرُدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی شاخوں کو پسند کرتے تھے اور ہمیشہ آپ کے ہاتھ میں ایک شاخ رہتی تھی ، ( ایک روز ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو قبلہ کی دیوار میں بلغم لگا ہوا دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچا پھر غصے کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ” کیا تم میں سے کسی کو اپنے منہ پر تھوکنا اچھا لگتا ہے ؟ جب تم میں سے کوئی شخص قبلے کی طرف منہ کرتا ہے تو وہ اپنے رب عزوجل کی طرف منہ کرتا ہے اور فرشتے اس کی داہنی طرف ہوتے ہیں ، لہٰذا کوئی شخص نہ اپنے داہنی طرف تھوکے اور نہ ہی قبلہ کی طرف ، اگر تھوکنے کی حاجت ہو تو اپنے بائیں جانب یا اپنے پیر کے نیچے تھوکے ، اگر اسے جلدی ہو تو اس طرح کرے “ ۔ ابن عجلان نے اسے ہم سے یوں بیان کیا کہ وہ اپنے کپڑے میں تھوک کر اس کو مل لے ۔
حدیث نمبر: 481
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ الْجُذَامِيِّ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَيْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَهْلَةَ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ ، قَالَ أَحْمَدُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ رَجُلًا أَمَّ قَوْمًا فَبَصَقَ فِي الْقِبْلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ : لَا يُصَلِّي لَكُمْ ، فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يُصَلِّيَ لَهُمْ فَمَنَعُوهُ وَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، وَحَسِبْتُ أَنَّهُ ، قَالَ : إِنَّكَ آذَيْتَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سہلہ سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ( احمد کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ) کہ` ایک شخص نے کچھ لوگوں کی امامت کی تو قبلہ کی جانب تھوک دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ رہے تھے ، جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ شخص اب تمہاری امامت نہ کرے “ ، اس کے بعد اس نے نماز پڑھانی چاہی تو لوگوں نے اسے امامت سے روک دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، ( میں نے منع کیا ہے ) “ ، صحابی کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : ” تم نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے “ ۔
حدیث نمبر: 482
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَبَزَقَ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن شخیر بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکا ۔
حدیث نمبر: 483
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، بِمَعْنَاهُ ، زَادَ : ثُمَّ دَلَكَهُ بِنَعْلِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے ابوالعلاء یزید بن عبداللہ بن الشخیر نے` اپنے والد عبداللہ بن الشخیر رضی اللہ عنہ سے اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے ، اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ ” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے جوتے سے مل دیا “ ۔
حدیث نمبر: 484
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ بَصَقَ عَلَى الْبُورِيِّ ، ثُمَّ مَسَحَهُ بِرِجْلِهِ ، فَقِيلَ لَهُ : لِمَ فَعَلْتَ هَذَا ؟ قَالَ : " لِأَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسعید حمیری کہتے ہیں کہ` میں نے دمشق کی مسجد میں واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے بوریے پر تھوکا ، پھر اپنے پاؤں سے اسے مل دیا ، ان سے پوچھا گیا : آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ انہوں نے کہا : اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 485
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيَّانِ ، بهذا الحديث وهذا لفظ يحيى بن الفضل السجستاني ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَتَيْنَا جَابِرًا يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ فِي مَسْجِدِهِ ، فَقَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ ، فَنَظَرَ فَرَأَى فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا فَحَتَّهَا بِالْعُرْجُونِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَجْهِهِ ؟ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ ، فَلَا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى ، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ بِثَوْبِهِ هَكَذَا ، وَوَضَعَهُ عَلَى فِيهِ ، ثُمَّ دَلَكَهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَرُونِي عَبِيرًا ، فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحَيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتِهِ ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهُ عَلَى رَأْسِ الْعُرْجُونِ ثُمَّ لَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ " ، قَالَ جَابِرٌ : فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ` ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے ، وہ اپنی مسجد میں تھے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اس مسجد میں تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ابن طاب ۱؎ کی ایک ٹہنی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو اس کی طرف بڑھے اور اسے ٹہنی سے کھرچا ، پھر فرمایا : ” تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے اپنا چہرہ پھیر لے ؟ “ ، پھر فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے ، لہٰذا اپنے سامنے اور اپنے داہنی طرف ہرگز نہ تھوکے ، بلکہ اپنے بائیں طرف اپنے بائیں پیر کے نیچے تھوکے اور اگر جلدی میں کوئی چیز ( بلغم ) آ جائے تو اپنے کپڑے سے اس طرح کرے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کو اپنے منہ پر رکھا ( اور اس میں تھوکا ) پھر اسے مل دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے «عبير» ۲؎ لا کر دو “ ، چنانچہ محلے کا ایک نوجوان اٹھا ، دوڑتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا اور اپنی ہتھیلی میں «خلوق» ۳؎ لے کر آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر لکڑی کی نوک میں لگایا اور جہاں بلغم لگا تھا وہاں اسے پوت دیا ۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اسی وجہ سے تم لوگ اپنی مسجدوں میں «خلوق» لگایا کرتے ہو ۔
وضاحت:
۱؎: ابن طاب ایک قسم کی کھجور کا نام ہے۔
۲؎: ایک قسم کی خوشبو ہے۔
۳؎: ایک قسم کی خوشبو ہے۔
۲؎: ایک قسم کی خوشبو ہے۔
۳؎: ایک قسم کی خوشبو ہے۔