حدیث نمبر: 206
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ ، عَنْ الرَّكِينِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ ذُكِرَ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَفْعَلْ إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ ، فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ، فَإِذَا فَضَخْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں ایک ایسا آدمی تھا جسے مذی ۱؎ بہت نکلا کرتی تھی ، تو میں باربار غسل کرتا تھا ، یہاں تک کہ میری پیٹھ پھٹ گئی ۲؎ تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، یا آپ سے اس کا ذکر کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ایسا نہ کرو ، جب تم مذی دیکھو تو صرف اپنے عضو مخصوص کو دھو ڈالو اور وضو کر لو ، جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہو ، البتہ جب پانی ۳؎ اچھلتے ہوئے نکلے تو غسل کرو ۔“
وضاحت:
۱؎: مذی ایسی رطوبت کو کہتے ہیں جو عورت سے بوس وکنار کے وقت مرد کے ذکر سے بغیر اچھلے نکلتی ہے۔
۲؎: یعنی ٹھنڈے پانی سے غسل کرتے کرتے پیٹھ کی کھال پھٹ گئی، جیسے سردی میں ہاتھ پاؤں پھٹ جاتے ہیں۔
۳؎: اس سے مراد منی ہے یعنی وہ رطوبت جو شہوت کے وقت اچھل کر نکلتی ہے۔
۲؎: یعنی ٹھنڈے پانی سے غسل کرتے کرتے پیٹھ کی کھال پھٹ گئی، جیسے سردی میں ہاتھ پاؤں پھٹ جاتے ہیں۔
۳؎: اس سے مراد منی ہے یعنی وہ رطوبت جو شہوت کے وقت اچھل کر نکلتی ہے۔
حدیث نمبر: 207
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ لَهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ ، مَاذَا عَلَيْهِ ؟ ، فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ ، قَالَ الْمِقْدَادُ : فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ ، فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اپنے لیے ) یہ مسئلہ پوچھنے کا حکم دیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے اور مذی نکل آئے تو کیا کرے ؟ ( انہوں نے کہا ) چونکہ میرے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ) ہیں ، اس لیے مجھے آپ سے یہ مسئلہ پوچھنے میں شرم آتی ہے ۔ مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں نے جا کر پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اپنی شرمگاہ کو دھو ڈالے اور وضو کرے جیسے نماز کے لیے وضو کرتا ہے ۔“
حدیث نمبر: 208
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ لِلْمِقْدَادِ وَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا ، قَالَ : فَسَأَلَهُ الْمِقْدَادُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِيَغْسِلْ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَجَمَاعَةٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْمِقْدَادِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِيهِ : وَالأُنْثَيَيْنِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عروہ سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا ، پھر راوی نے آگے اسی طرح کی روایت ذکر کی ، اس میں ہے کہ` مقداد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چاہیئے کہ وہ شرمگاہ ( عضو مخصوص ) اور فوطوں کو دھو ڈالے ۔“ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ثوری اور ایک جماعت نے ہشام سے ، ہشام نے اپنے والد عروہ سے ، عروہ نے مقداد رضی اللہ عنہ سے ، مقداد رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے ، اور علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 209
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَدِيثٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْمِقْدَادِ : فَذَكَرَ مَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُد ، وَرَوَاهُ الْمُفَضَّلُ بن فضالة وجماعة ، والثوري ، وابن عيينة ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَرَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْمِقْدَادِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ يَذْكُرْ : أُنْثَيَيْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسے مفضل بن فضالہ ، ایک جماعت ، ثوری اور ابن عیینہ نے ہشام سے ، ہشام نے اپنے والد عروہ سے ، عروہ نے علی بن ابی طالب سے روایت کیا ہے ، نیز اسے ابن اسحاق نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد عروہ سے ، عروہ نے مقداد رضی اللہ عنہ سے اور مقداد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ، مگر اس میں لفظ «أنثييه» ” دونوں فوطوں کا “ ذکر نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 210
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً ، وَكُنْتُ أُكْثِرُ مِنَ الِاغْتِسَالِ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ ؟ قَالَ : يَكْفِيكَ بِأَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَنْضَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے مذی سے بڑی تکلیف ہوتی تھی ، باربار غسل کرتا تھا ، لہٰذا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : ” اس میں صرف وضو کافی ہے “ ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! کپڑے میں جو لگ جائے اس کا کیا ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک چلو پانی لے کر کپڑے پر جہاں تم سمجھو کہ مذی لگ گئی ہے چھڑک لو ۔“
حدیث نمبر: 211
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يُوجِبُ الْغُسْلَ ، وَعَنِ الْمَاءِ يَكُونَ بَعْدَ الْمَاءِ ، فَقَالَ : " ذَاكَ الْمَذْيُ ، وَكُلُّ فَحْلٍ يَمْذِي ، فَتَغْسِلُ مِنْ ذَلِكَ فَرْجَكَ وَأُنْثَيَيْكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں پوچھا جو غسل کو واجب کرتی ہے ، اور وہ پانی جو پانی کے بعد نکلتا ہے ؟ ( یعنی پیشاب کے بعد اس کا کیا حکم ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ مذی ہوتی ہے ، اور ہر نر ( مرد ) کی مذی نکلتی ہے ، لہٰذا تم اپنی شرمگاہ اور اپنے دونوں فوطوں کو دھو ڈالو ، اور وضو کرو جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہو ۔“
حدیث نمبر: 212
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ ،عَنْ عَمِّهِ ، " أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَحِلُّ لِي مِنَ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ ، قَالَ : لَكَ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ " ، وَذَكَرَ مُؤَاكَلَةَ الْحَائِضِ أَيْضًا ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : جب میری بیوی حائضہ ہو تو اس کی کیا چیز میرے لیے حلال ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے لیے لنگی ( تہبند ) کے اوپر والا حصہ درست ہے “ ، نیز اس کے ساتھ حائضہ کے ساتھ کھانے کھلانے کا بھی ذکر کیا ، پھر راوی نے ( سابقہ ) پوری حدیث بیان کی ۔
وضاحت:
عورت جب مخصوص ایام میں ہو تو زوجین کے لیے خاص جنسی عمل حرام ہے۔ تاہم اکٹھے کھا پی، اٹھ بیٹھ اور لیٹ سکتے ہیں۔ اسی کو آپ نے «ما فوق الإزار» ” تہہ بند سے اوپر “ سے تعبیر فرمایا ہے اور ظاہر ہے کہ اس سے مذی کا اخراج ہو گا تو غسل واجب نہ ہو گا۔ ہاں اگر منی نکل آئے تو غسل کرنا پڑے گا۔
حدیث نمبر: 213
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْيَزَنِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ سَعْدٍ الْأَغْطَشِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ ، قَالَ هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ قُرْطٍ أَمِيرُ حِمْصَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنَ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ ، قَالَ : فَقَالَ : مَا فَوْقَ الْإِزَارِ ، وَالتَّعَفُّفُ عَنْ ذَلِكَ أَفْضَلُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَلَيْسَ هُوَ يَعْنِي الْحَدِيثَ بِالْقَوِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : مرد کے لیے اس کی حائضہ بیوی کی کیا چیز حلال ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لنگی ( تہبند ) کے اوپر کا حصہ جائز ہے ، لیکن اس سے بھی بچنا افضل ہے ۔“ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث قوی نہیں ہے ۔
وضاحت:
عورت جب مخصوص ایام میں ہو تو (جماع کے بغیر) مباشرت جائز ہے جیسا کہ حدیث ۲۱۲ میں ذکر ہوا۔ مذکورہ حدیث ضعیف ہے، جیسا کہ حدیث میں بیان بھی ہوا کہ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔