کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: آگ کی پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 187
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت کھایا ، پھر نماز پڑھی ، اور وضو نہیں کیا ۔
وضاحت:
اس مسئلے کا پس منظر یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں آگ پر پکی چیز استعمال کرنے سے وضو کرنے کا حکم تھا جو بعد میں منسوخ ہو گیا، مگر کچھ لوگوں کو منسوخ ہونے کا علم نہ ہو سکا اور وہ بدستور وضو کرنے کے قائل رہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 187
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (207) صحيح مسلم (354)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الطہارة 24 (354)، (تحفة الأشراف: 5979)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 15 (207)، سنن النسائی/الطھارة 123 (184)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 66 (488)، موطا امام مالک/الطھارة 5(19)، مسند احمد (1/226) (صحیح) »
حدیث نمبر: 188
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : " ضِفْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ ، وَأَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ ، قَالَ : فَجَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ ، قَالَ : فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ ، وَقَالَ : مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ ؟ وَقَامَ يُصَلِّ " ، زَادَ الْأَنْبَارِيُّ : وَكَانَ شَارِبِي وَفَى فَقَصَّهُ لِي عَلَى سِوَاكٍ ، أَوْ قَالَ : أَقُصُّهُ لَكَ عَلَى سِوَاكٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہوا تو آپ نے بکری کی ران بھوننے کا حکم دیا ، وہ بھونی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی ، اور میرے لیے اس میں سے گوشت کاٹنے لگے ، اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ آئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دی ، تو آپ نے چھری رکھ دی ، اور فرمایا : ” اسے کیا ہو گیا ؟ اس کے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ؟ “ ، اور اٹھ کر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے ۔ انباری کی روایت میں اتنا اضافہ ہے : ” میری موچھیں بڑھ گئی تھیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھوں کے تلے ایک مسواک رکھ کر ان کو کتر دیا “ ، یا فرمایا : ” میں ایک مسواک رکھ کر تمہارے یہ بال کتر دوں گا ۔‏‏‏‏“
وضاحت:
۱؎: حدیث سے ثابت ہوا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم نہیں آتا بلکہ یہ حکم منسوخ ہے۔ بلال رضی اللہ عنہ کے لیے آپ نے جو کلمہ استعمال فرمایا وہ عام سا جملہ تھا، بددعا مقصود نہ تھی۔ یعنی اسے اتنی جلدی پڑی تھی کہ میرے کھانے سے فارغ ہو جانے کا انتظار تک نہیں کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ کا اس سے استدلال یہ ہے کہ مقرر شدہ امام کو کھانے کی بنا پر تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ مونچھیں چھوٹی ہونی چاہییں اور بڑے کو حق حاصل ہے کہ اپنے عزیز کی بڑھی ہوئی مونچھیں کتر دے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 188
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (4236), شمائل ترمذي: ح 165 ص 195
تخریج حدیث « * تخريج:تفرد بہ أبو داود، سنن الترمذی/الشمائل (165)، (تحفة الأشراف: 11530)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/252) (صحیح) »
حدیث نمبر: 189
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِفًا ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ بِمِسْحٍ كَانَ تَحْتَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ کھایا پھر اپنا ہاتھ اس ٹاٹ سے پوچھا جو آپ کے نیچے بچھا ہوا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 189
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (488), سماك ضعيف عن عكرمة وصحيح الحديث عن غيره (تقدم: 68), ولأصل الحديث شواھد, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 20
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الطہارة 66 (488)، (تحفة الأشراف: 6110) (صحیح) »
حدیث نمبر: 190
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَشَ مِنْ كَتِفٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت نوچ کر کھایا پھر نماز پڑھی اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کیا ۔
وضاحت:
دانتوں سے نوچ کر کھانا سنت ہے اور لذت کا باعث بھی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 190
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وله شواھد كثيرة عند البخاري: 3340 و مسلم: 194 وغيرھما
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 6551)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/279، 361) (صحیح) »
حدیث نمبر: 191
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَثْعَمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : " قَرَّبْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا وَلَحْمًا فَأَكَلَ ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ بِهِ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ طَعَامِهِ فَأَكَلَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو روٹی اور گوشت پیش کیا ، تو آپ نے کھایا ، پھر وضو کے لیے پانی منگایا ، اور اس سے وضو کیا ، پھر ظہر کی نماز ادا کی ، پھر اپنا بچا ہوا کھانا منگایا اور کھایا ، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 191
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3063)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 53 (5457)، سنن الترمذی/الطھارة 59 (80)، سنن النسائی/الطھارة 123 (185)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 66 (489)، مسند احمد (3/322) (صحیح) »
حدیث نمبر: 192
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ أَبُو عِمْرَانَ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كَانَ آخِرَ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَرْكُ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا اخْتِصَارٌ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری فعل یہی تھا کہ آپ آگ کی پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو نہیں کرتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ پہلی حدیث کا اختصار ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 192
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, وصححه ابن خزيمة (43) وذكر الشافعي له علة – إن صحة – فالحديث حسن، وانظر أنوار السنن (168)
تخریج حدیث « سنن النسائی/ الطہارة 123 (185)، (تحفة الأشراف: 3047) (صحیح) »
حدیث نمبر: 193
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ : بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ ثُمَامَةَ الْمُرَادِيُّ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا مِصْرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ فِي مَسْجِدِ مِصْرَ ،قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ أَوْ سَادِسَ سِتَّةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِ رَجُلٍ ، فَمَرَّ بِلَالٌ فَنَادَاهُ بِالصَّلَاةِ ، فَخَرَجْنَا فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ وَبُرْمَتُهُ عَلَى النَّارِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَطَابَتْ بُرْمَتُكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، فَتَنَاوَلَ مِنْهَا بَضْعَةً ، فَلَمْ يَزَلْ يَعْلُكُهَا حَتَّى أَحْرَمَ بِالصَّلَاةِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبید بن ثمامہ مرادی کا بیان ہے کہ` صحابی رسول عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ مصر میں ہمارے پاس آئے ، تو میں نے ان کو مصر کی مسجد میں حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا : ” ایک آدمی کے گھر میں مجھ سمیت سات یا چھ اشخاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ موجود تھے کہ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ گزرے اور آپ کو نماز کے لیے آواز دی ، ہم نکلے اور راستے میں ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جس کی ہانڈی آگ پر چڑھی ہوئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے پوچھا : ” کیا تمہاری ہانڈی پک گئی ؟ “ ، اس نے جواب دیا : ہاں ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہانڈی سے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اس کو چباتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے تکبیر ( تحریمہ ) کہی اور میں آپ کو دیکھ رہا تھا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 193
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ثمامة: لا يعرف (الكاشف للذھبي: 3660), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 20
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5233) (ضعیف) » (اس کا راوی ”عبید بن ثمامہ “ لَیِّن الحدیث ہے) »