کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: موزوں پر مسح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 149
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ الْمُغِيرَةَ يَقُولُ : " عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَبْلَ الْفَجْرِ ، فَعَدَلْتُ مَعَهُ ، فَأَنَاخَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَرَّزَ ، ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ عَلَى يَدِهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا إِلَى الْمِرْفَقِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ ، ثُمَّ رَكِبَ ، فَأَقْبَلْنَا نَسِيرُ حَتَّى نَجِدَ النَّاسَ فِي الصَّلَاةِ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَصَلَّى بِهِمْ حِينَ كَانَ وَقْتُ الصَّلَاةِ ، وَوَجَدْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَصَلَّى وَرَاءَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ ، ثُمَّ سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ ، فَفَزِعَ الْمُسْلِمُونَ فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ لِأَنَّهُمْ سَبَقُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ : قَدْ أَصَبْتُمْ ، أَوْ قَدْ أَحْسَنْتُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں فجر سے پہلے مڑے ، میں آپ کے ساتھ تھا ، میں بھی مڑا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ بٹھایا اور قضائے حاجت کی ، پھر آئے تو میں نے چھوٹے برتن ( لوٹے ) سے آپ کے ہاتھ پر پانی ڈالا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پہونچے دھوئے ، پھر اپنا چہرہ دھویا ، پھر آستین سے دونوں ہاتھ نکالنا چاہا مگر جبے کی آستین تنگ تھی اس لیے آپ نے ہاتھ اندر کی طرف کھینچ لیا ، اور انہیں جبے کے نیچے سے نکالا ، پھر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا ، اور اپنے سر کا مسح کیا ، پھر دونوں موزوں پر مسح کیا ، پھر سوار ہو گئے ، پھر ہم چل پڑے ، یہاں تک کہ ہم نے لوگوں کو نماز کی حالت میں پایا ، ان لوگوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ( امامت کے لیے ) آگے بڑھا رکھا تھا ، انہوں نے حسب معمول وقت پر لوگوں کو نماز پڑھائی ، جب ہم پہنچے تو عبدالرحمٰن بن عوف فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ صف میں شریک ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف کے پیچھے دوسری رکعت پڑھی ، پھر جب عبدالرحمٰن نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ، یہ دیکھ کر مسلمان گھبرا گئے ، اور لوگ سبحان اللہ کہنے لگے ، کیونکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نماز شروع کر دی تھی ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ان سے فرمایا : ” تم لوگوں نے ٹھیک کیا “ ، یا فرمایا : ” تم لوگوں نے اچھا کیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 149
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (274 بعد ح 421)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الوضوء 35(182)، 48 (203)، 49 (206)، المغازي 81 (4421)، اللباس 11 (5799)، صحیح مسلم/الطھارة 23 (274)، سنن النسائی/الطھارة 63 (79)، 66 (82)، 96 (124)، 97 (125)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 84 (545)، (تحفة الأشراف: 11514)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطھارة 8 (41)، مسند احمد (4/ 249، 251، 254، 255)، سنن الدارمی/الطھارة 41 (740) (صحیح) »
حدیث نمبر: 150
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ نَاصِيَتَهُ ، وَذَكَرَ فَوْقَ الْعِمَامَةِ " ، قَالَ : عَنْ الْمُعْتَمِرِ ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَعَلَى نَاصِيَتِهِ وَعَلَى عِمَامَتِهِ ، قَالَ بَكْرٌ : وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، اپنی پیشانی پر مسح کیا ، مغیرہ نے عمامہ ( پگڑی ) کے اوپر مسح کا بھی ذکر کیا ۔ ایک دوسری روایت میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں موزوں پر اور اپنی پیشانی اور اپنے عمامہ ( پگڑی ) پر مسح کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 150
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (274)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الطہارة 23 (274)، سنن الترمذی/الطہارة 74 (100)، سنن النسائی/الطہارة 87 (107)، (تحفة الأشراف: 11494)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/255) (صحیح) »
حدیث نمبر: 151
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ يَذْكُرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْبِهِ وَمَعِي إِدَاوَةٌ ، فَخَرَجَ لِحَاجَتِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَتَلَقَّيْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ مِنْ جِبَابِ الرُّومِ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَضَاقَتْ فَادَّرَعَهُمَا ادِّرَاعًا ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ إِلَى الْخُفَّيْنِ لِأَنْزَعَهُمَا ، فَقَالَ لِي : دَعِ الْخُفَّيْنِ ، فَإِنِّي أَدْخَلْتُ الْقَدَمَيْنِ الْخُفَّيْنِ وَهُمَا طَاهِرَتَانِ ، فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا " ، قَالَ أَبِي : قَالَ الشَّعْبِيُّ : شَهِدَ لِي عُرْوَةُ عَلَى أَبِيهِ ، وَشَهِدَ أَبُوهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند سواروں میں تھے اور میرے ساتھ ایک چھاگل ( چھوٹا برتن ) تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے پھر واپس آئے تو میں چھاگل لے کر آپ کے پاس پہنچا ، میں نے آپ ( کے ہاتھ ) پر پانی ڈالا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہونچے اور چہرہ مبارک دھویا ، پھر دونوں ہاتھ آستین سے نکالنا چاہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملک روم کے بنے ہوئے جبوں میں سے ایک جبہ زیب تن کئے ہوئے تھے ، جس کی آستین تنگ و چست تھی ، اس کی وجہ سے ہاتھ نہ نکل سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندر ہی سے نکال لیا ، پھر میں آپ کے پاؤں سے موزے نکالنے کے لیے جھکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” موزوں کو رہنے دو ، میں نے یہ پاکی کی حالت میں پہنے ہیں “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کیا ۔ شعبی کہتے ہیں : یقیناً میرے سامنے عروہ بن مغیرہ نے اپنے والد سے اسے روایت کیا ہے اور یقیناً ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 151
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (206) صحيح مسلم (274)
تخریج حدیث « انظرحدیث رقم : 149 ، (تحفة الأشراف: 11514) (صحیح) »
حدیث نمبر: 152
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، قَالَ : تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ ، قَالَ : فَأَتَيْنَا النَّاسَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُصَلِّ بِهِمُ الصُّبْحَ ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَمْضِيَ ، قَالَ : فَصَلَّيْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ رَكْعَةً ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي سُبِقَ بِهَا وَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا ، قَالَ أَبُو دَاوُد : أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ ، وَابْنُ عُمَرَ ، يَقُولُونَ : مَنْ أَدْرَكَ الْفَرْدَ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( سفر میں لوگوں کی جماعت سے ) پیچھے رہ گئے ، پھر انہوں نے اسی واقعہ کا ذکر کیا ۔ مغیرہ کہتے ہیں : جب ہم لوگوں کے پاس آئے تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ انہیں صبح کی نماز پڑھا رہے تھے ، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، تو پیچھے ہٹنا چاہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز جاری رکھنے کا اشارہ کیا ۔ مغیرہ کہتے ہیں : تو میں نے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف کے پیچھے ایک رکعت پڑھی ، اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر وہ رکعت ادا کی جو رہ گئی تھی ، اس سے زیادہ کچھ نہیں پڑھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابو سعید خدری ، ابن زبیر ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں : جو شخص امام کے ساتھ نماز کی طاق رکعت پائے ، تو اس پر سہو کے دو سجدے ہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: علامہ البانی نے اس اثر کو ضعیف کہا ہے، اس لئے اس سے استدلال درست نہیں ہے، جمہور نے اس کو رد کر دیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 152
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قتادة مدلس (تقدم: 29) وعنعن, والحديث السابق (الأصل: 149) يغني عنه, وآثار الصحابة لم أجدھا, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 18
تخریج حدیث « انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 11492) (صحیح) »
حدیث نمبر: 153
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ ، سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، أَنَّهُ شَهِدَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَسْأَلُ بِلَالًا عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " كَانَ يَخْرُجُ يَقْضِي حَاجَتَهُ فَآتِيهِ بِالْمَاءِ فَيَتَوَضَّأُ ، وَيَمْسَحُ عَلَى عِمَامَتِهِ وَمُوقَيْهِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هُوَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى بَنِي تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ` وہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس اس وقت موجود تھے جب وہ بلال رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھ رہے تھے ، بلال نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے تشریف لے جاتے ، پھر میں آپ کے پاس پانی لاتا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے اور اپنے عمامہ ( پگڑی ) اور دونوں موق ( جسے موزوں کے اوپر پہنا جاتا ہے ) پر مسح کرتے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 153
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, صححه الحاكم (1/ 170، وسنده حسن) ووافقه الذهبي، وللحديث شواھد كثيرة جداً
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 2049)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطھارة 23 (275)، سنن الترمذی/الطھارة 75 (100)، سنن النسائی/الطھارة 86 (105)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 89 (561)، مسند احمد (6/12، 13، 14، 15) (صحیح) »
حدیث نمبر: 154
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ دَاوُدَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، أَنَّ جَرِيرً بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، وَقَالَ : " مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَمْسَحَ ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ ؟ قَالُوا : إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ ، قَالَ : مَا أَسْلَمْتُ إِلَّا بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوزرعہ بن عمرو بن جریر کہتے ہیں کہ` جریر رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا پھر وضو کیا تو دونوں موزوں پر مسح کیا اور کہا کہ مجھے مسح کرنے سے کیا چیز روک سکتی ہے جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( موزوں پر ) مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ، اس پر لوگوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل سورۃ المائدہ کے نزول سے پہلے کا ہو گا ؟ تو انہوں نے جواب دیا : میں نے سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد ہی اسلام قبول کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 154
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وللحديث شواھد كثيرة عند البخاري (387) ومسلم (272) وغيرهما
تخریج حدیث « تفرد بہ ابوداود (تحفة الأشراف: 3240)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 25 (387)، صحیح مسلم/الطھارة 22 (272)، سنن الترمذی/الطھارة 70 (94)، سنن النسائی/الطھارة 96 (118)، القبلة 23 (775)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 84 (543)، مسند احمد (4/358، 363، 364) (حسن) » (مؤلف کی سند سے حسن ہے، ورنہ اصل حدیث صحیحین میں بھی ہے)
حدیث نمبر: 155
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ حُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ النَّجَاشِيَّ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ أَسْوَدَيْنِ سَاذَجَيْنِ فَلَبِسَهُمَا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا " ، قَالَ مُسَدَّدٌ ، عَنْ دَلْهَمِ بْنِ صَالِحٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نجاشی ( اصحمہ بن بحر ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو سادہ سیاہ موزے ہدیے میں بھیجے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا ، پھر وضو کیا اور ان پر مسح کیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 155
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2820)،ابن ماجه (549), دلھم: ضعيف (تقريب التهذيب: 1830), ولأصل الحديث شواھد, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 18
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأدب 55 (2820)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 84 (549)، مسند احمد (5/352، (تحفة الأشراف: 1956) (حسن) »
حدیث نمبر: 156
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ حَيٍّ هُوَ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَسِيتَ ؟ قَالَ : بَلْ أَنْتَ نَسِيتَ ، بِهَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا تو میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ بھول گئے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلکہ تم بھول گئے ہو ، میرے رب نے مجھے اسی کا حکم دیا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 156
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, بكير بن عامر: ضعيف،وقال الھيثمي: وضعفه جمهور الأئمة (مجمع الزوائد: 4/ 111), وانظر : ح 3402, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 18
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 11508)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/246، 253) (ضعیف) » (اس کے راوی ”بکیر “ ضعیف ہیں)