سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب فِي السَّلاَمِ باب: سلام پھیرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 999
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، قَالَ : " أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَوْ أَحَدَهُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخْذِهِ ، ثُمَّ يُسَلِّمَ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ ، وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس طریق سے بھی مسعر سے اس مفہوم کی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم میں سے کسی کو یا ان میں سے کسی کو کافی نہیں ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اپنی ران پر رکھے پھر اپنے دائیں اور بائیں اپنے بھائی کو سلام کرے “ ۔