حدیث نمبر: 994
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ وَهَذَا لَفْظُهُ جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَتَّكِئُ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى وَهُوَ قَاعِدٌ فِي الصَّلَاةِ ، قَالَ هَارُونُ بْنُ زَيْدٍ : سَاقِطًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ ، ثُمَّ اتَّفَقَا ، فَقَالَ لَهُ : " لَا تَجْلِسْ هَكَذَا ، فَإِنَّ هَكَذَا يَجْلِسُ الَّذِينَ يُعَذَّبُونَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` انہوں نے ایک شخص کو اپنے بائیں ہاتھ پر ٹیک لگائے نماز میں بیٹھے ہوئے دیکھا ( ہارون بن زید نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ بائیں پہلو پر پڑا ہوا دیکھا پھر ( آگے ) دونوں ( الفاظ میں ) متفق ہیں تو انہوں نے اس سے کہا : اس طرح نہ بیٹھو کیونکہ اس طرح وہ لوگ بیٹھتے ہیں جو عذاب دیئے جائیں گے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 994
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن, رواه البيھقي (2/136 موقوفًا وسنده حسن) ورواه أحمد (2/116 مرفوعًا وسنده حسن)
تخریج حدیث « تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8513)، وقد أخرجہ: حم (2/116) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نماز میں ہاتھ کا سہارا لینے کی کراہت۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو اپنے بائیں ہاتھ پر ٹیک لگائے نماز میں بیٹھے ہوئے دیکھا (ہارون بن زید نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ بائیں پہلو پر پڑا ہوا دیکھا پھر (آگے) دونوں (الفاظ میں) متفق ہیں تو انہوں نے اس سے کہا: اس طرح نہ بیٹھو کیونکہ اس طرح وہ لوگ بیٹھتے ہیں جو عذاب دیئے جائیں گے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 994]
994. اردو حاشیہ:
➊ اس اثر میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی روایت [992] کی وضاحت ہے جو اوپر گزری ہے۔
➋ اگر کوئی شخص بیٹھنے سے معذور ہو تو لیٹ کر نماز پڑھے اپنے پہلو پر نہ گرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 994 سے ماخوذ ہے۔