سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب كَرَاهِيَةِ الاِعْتِمَادِ عَلَى الْيَدِ فِي الصَّلاَةِ باب: نماز میں ہاتھ کا سہارا لینے کی کراہت۔
حدیث نمبر: 993
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، سَأَلْتُ نَافِعًا عَنِ الرَّجُلِ يُصَلِّي وَهُوَ مُشَبِّكٌ يَدَيْهِ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : تِلْكَ صَلَاةُ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسماعیل بن امیہ کہتے ہیں` میں نے نافع سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو نماز پڑھ رہا ہو اور وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کئے ہوئے ہو ، تو انہوں نے کہا : ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے کہ یہ غضب کی شکار «مغضوب عليهم» قوم یہود کی نماز ہے ۔