سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب الإِشَارَةِ فِي التَّشَهُّدِ باب: تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 989
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ زِيَادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ ذَكَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا وَلَا يُحَرِّكُهَا " . قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَزَادَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ :أَخْبَرَنِي عَامِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَدْعُو كَذَلِكَ ، وَيَتَحَامَلُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُسْرَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارے کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے ۱؎ ۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھے عامر نے اپنے والد کے واسطہ سے خبر دی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح تشہد پڑھتے دیکھا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے کا جملہ شاذ ہے جیسا کہ تخریج سے ظاہر ہے اس کے برخلاف صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی کو اٹھانے کے بعد اسے حرکت دے دے کر دعا کرتے اور فرماتے تھے کہ یہ شہادت کی انگلی شیطان پر لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 989
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ بقوله ولا يحركها , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (1271), ابن عجلان عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 47
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1271
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مبشر احمد ربانی
´تشہد میں انگشت شہادت کو حرکت دینا`
«. . . كَانَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا وَلَا يُحَرِّكُهَا . . .»
”. . . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارے کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے۔ . . .“ [سنن ابي داود: 989]
«. . . كَانَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا وَلَا يُحَرِّكُهَا . . .»
”. . . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارے کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے۔ . . .“ [سنن ابي داود: 989]
فوائد و مسائل
یہ حدیث ضعیف ہے: کیونکہ اس میں محمد بن عجلان عامر بن عبداللہ بن زبیر سے بیان کرتا ہے اور محمد بن عجلان متکلم فیہ راوی ہے، اس کے علاوہ چار ثقہ راویوں نے عامر بن عبداللہ سے اسی روایت کو بیان کیا ہے لیکن اس میں «لَا يُحَرِّكُهَا» کے الفاظ نہیں ہیں۔
معلوم ہوا یہ الفاظ شاذ ہیں۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے بھی محمد بن عجلان کے طریق سے یہی روایت ذکر کی ہے، اس میں بھی «لَا يُحَرِّكُهَا» کے الفاظ نہیں ہیں۔
یہ حدیث ضعیف ہے: کیونکہ اس میں محمد بن عجلان عامر بن عبداللہ بن زبیر سے بیان کرتا ہے اور محمد بن عجلان متکلم فیہ راوی ہے، اس کے علاوہ چار ثقہ راویوں نے عامر بن عبداللہ سے اسی روایت کو بیان کیا ہے لیکن اس میں «لَا يُحَرِّكُهَا» کے الفاظ نہیں ہیں۔
معلوم ہوا یہ الفاظ شاذ ہیں۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے بھی محمد بن عجلان کے طریق سے یہی روایت ذکر کی ہے، اس میں بھی «لَا يُحَرِّكُهَا» کے الفاظ نہیں ہیں۔
درج بالا اقتباس احکام و مسائل، حدیث/صفحہ نمبر: 0 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارے کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے ۱؎۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھے عامر نے اپنے والد کے واسطہ سے خبر دی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح تشہد پڑھتے دیکھا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 989]
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارے کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے ۱؎۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھے عامر نے اپنے والد کے واسطہ سے خبر دی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح تشہد پڑھتے دیکھا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 989]
989۔ اردو حاشیہ:
حرکت نہ دینے والی روایت سنداً ضعیف ہے۔ تاہم بعض علماء نے اس کو صحیح قرار دیتے ہوئے اشارہ کرنے اور حرکت نہ دینے کے درمیان یہ تطبیق دی ہے، جیسے کہ شوکانی نے امام بہیقی سے نقل کیا ہے کہ آپ اشارہ کرتے مگر حرکت میں تکرار نہ ہوتا تھا۔ دیکھئے: [نيل اوطار باب الاشاره بالسبابة]
اس لئے حرکت اور اشارہ دونوں پر اگر اس طرح عمل کیا جائے کہ تشہد میں بیٹھتے ہی 53 کی گنتی کی گرہ بناتے ہوئے انگلی اٹھا لی جائے اور اسے سلام پھیرنے تک اشارے کی حالت میں کھڑا رکھا جائے۔ جیسا کہ احادیث سے تشہد میں انگلی کی یہی کیفیت معلوم ہوتی ہے اور چند بار درمیان میں حرکت بھی دے لی جائے، تاکہ حرکت والی حدیث پر بھی عمل ہو جائے، تاہم حرکت کی تکرار اور کثرت جیسا کہ روا ج ہوتا جا رہا ہے، اس کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہے۔ «والله اعلم»
حرکت نہ دینے والی روایت سنداً ضعیف ہے۔ تاہم بعض علماء نے اس کو صحیح قرار دیتے ہوئے اشارہ کرنے اور حرکت نہ دینے کے درمیان یہ تطبیق دی ہے، جیسے کہ شوکانی نے امام بہیقی سے نقل کیا ہے کہ آپ اشارہ کرتے مگر حرکت میں تکرار نہ ہوتا تھا۔ دیکھئے: [نيل اوطار باب الاشاره بالسبابة]
اس لئے حرکت اور اشارہ دونوں پر اگر اس طرح عمل کیا جائے کہ تشہد میں بیٹھتے ہی 53 کی گنتی کی گرہ بناتے ہوئے انگلی اٹھا لی جائے اور اسے سلام پھیرنے تک اشارے کی حالت میں کھڑا رکھا جائے۔ جیسا کہ احادیث سے تشہد میں انگلی کی یہی کیفیت معلوم ہوتی ہے اور چند بار درمیان میں حرکت بھی دے لی جائے، تاکہ حرکت والی حدیث پر بھی عمل ہو جائے، تاہم حرکت کی تکرار اور کثرت جیسا کہ روا ج ہوتا جا رہا ہے، اس کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہے۔ «والله اعلم»
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 989 سے ماخوذ ہے۔
✍️ حافظ زبیر علی زئی
تشہد میں دعا کرتے وقت شہادت کی انگلی کو حرکت دینا
تشہد میں دعا کرتے وقت شہادت کی انگلی کو حرکت دینا (ہلاتے رہنا) صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ دیکھئے: [سنن النسائي 1269، و سنده صحيح صحيح ابن خزيمه 714 منتقي ابن الجارود 208 اور صحيح ابن حبان الاحسان: 1857]
جس روایت میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے اور اس کو ہلاتے نہیں تھے۔ دیکھئے: [سنن ابي داود: 989 اور السنن الكبريٰ للبيهقي 132/2]
اس کی سند محمد بن عجلان (مدلس راوی) کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے۔
ابن عجلان کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مدلسین کے طبقۂ ثالثہ میں ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [الفتح المبين ص60]
محمد بن عجلان کو طحاوی نے بھی مدلس قرار دیا ہے۔
دیکھئے: [مشكل الآثار طبع قديم ج1 ص100، 101]
اس ضعیف روایت کو صحیح سند کہنا غلط ہے۔
یاد رہے کہ ضعیف روایت مردود ہوتی ہے اور تطبیق وہاں ہوتی ہے جہاں دونوں حدیثیں صحیح ہوں۔
۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
تشہد میں دعا کرتے وقت شہادت کی انگلی کو حرکت دینا (ہلاتے رہنا) صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ دیکھئے: [سنن النسائي 1269، و سنده صحيح صحيح ابن خزيمه 714 منتقي ابن الجارود 208 اور صحيح ابن حبان الاحسان: 1857]
جس روایت میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے اور اس کو ہلاتے نہیں تھے۔ دیکھئے: [سنن ابي داود: 989 اور السنن الكبريٰ للبيهقي 132/2]
اس کی سند محمد بن عجلان (مدلس راوی) کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے۔
ابن عجلان کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مدلسین کے طبقۂ ثالثہ میں ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [الفتح المبين ص60]
محمد بن عجلان کو طحاوی نے بھی مدلس قرار دیا ہے۔
دیکھئے: [مشكل الآثار طبع قديم ج1 ص100، 101]
اس ضعیف روایت کو صحیح سند کہنا غلط ہے۔
یاد رہے کہ ضعیف روایت مردود ہوتی ہے اور تطبیق وہاں ہوتی ہے جہاں دونوں حدیثیں صحیح ہوں۔
۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
درج بالا اقتباس فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 77 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1271 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´بائیں (ہاتھ) کو گھٹنے پر رکھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے، اور اسے ہلاتے نہیں تھے ۱؎۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو نے (اس میں) اضافہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ عامر بن عبداللہ بن زبیر نے مجھے خبر دی، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی طرح دعا کرتے، اور آپ اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے بائیں پاؤں کو تھامے رہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1271]
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے، اور اسے ہلاتے نہیں تھے ۱؎۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو نے (اس میں) اضافہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ عامر بن عبداللہ بن زبیر نے مجھے خبر دی، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی طرح دعا کرتے، اور آپ اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے بائیں پاؤں کو تھامے رہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1271]
1271۔ اردو حاشیہ: «وَلَا يُحَرِّكُهَا» ”اور اسے حرکت نہ دیتے تھے“ کے اضافے کے ساتھ یہ روایت شاذ ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کی سند حسن ہے لیکن «وَلَا يُحَرِّكُهَا» کا اضافہ شاذ ہے۔ اسے ابن عجلان سے بیان کرنے میں زیاد بن سعد متفرد ہے۔ اور ثقات کی ایک جماعت نے اس کی مخالفت کی ہے، وہ اس طرح کہ جب انہوں نے ابن عجلان سے یہ حدیث بیان کی ہے تو اس اضافے کے بغیر نقل کی ہے اور ابن عجلان کی دو ثقات نے متابعت کی ہے۔ انہوں نے بھی عامر بن عبداللہ سے اس زیادتی کے بغیر یہ روایت بیان کی ہے، اس لیے ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس کی صحت محل نظر ہے۔“ مزید برآں یہ کہ اس اضافے کی مخالفت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے، جس میں ہے کہ پھر آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی انگلی اٹھائی۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اسے حرکت دے رہے تھے اور اس کے ساتھ دعا کرتے تھے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [ضعیف سنن أبي داود (مفصل) للألباني، حدیث: 175] الغرض مذکورہ زیادتی ضعیف اور شاذ ہے جبکہ باقی حدیث درجۂ قبول کو پہنچتی ہے۔ اگرچہ محقق کتاب نے پوری روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1271 سے ماخوذ ہے۔