حدیث نمبر: 985
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَّ مِحْجَنَ بْنَ الْأَدْرَعِ حَدَّثَهُ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدْ قَضَى صَلَاتَهُ وَهُوَ يَتَشَهَّدُ ، وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ، أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ، قَالَ : فَقَالَ : " قَدْ غُفِرَ لَهُ ، قَدْ غُفِرَ لَهُ " ثَلَاثًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص نے اپنی نماز پوری کر لی ، اور تشہد میں بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے : «اللهم إني أسألك يا الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد أن تغفر لي ذنوبي إنك أنت الغفور الرحيم» ” اے تنہا و اکیلا ، باپ بیٹا سے بے نیاز ، بے مقابل ولا مثیل اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میری گناہوں کو بخش دے ، بیشک تو بہت بخشش کرنے والا مہربان ہے “ یہ سن کر آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا : ” اسے بخش دیا گیا ، اسے بخش دیا گیا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 985
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه النسائي (1302 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (724 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن النسائی/السھو 58 (1302)، (تحفة الأشراف: 11218)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/338) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1302

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1302 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ذکر الٰہی کے بعد کی دعا کا بیان۔`
محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں گئے، تو دیکھا کہ ایک آدمی اپنی نماز پوری کر چکا ہے، اور تشہد میں ہے اور کہہ رہا ہے: «اللہم إني أسألك يا اللہ بأنك الواحد الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد أن تغفر لي ذنوبي إنك أنت الغفور الرحيم» " اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں، اے اللہ تجھی سے، اس لیے کہ تو ہی ایک ایسا تن تنہا بے نیاز ہے جس نے نہ تو کسی کو جنا ہے، اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے، اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے، لہٰذا تو میرے گناہوں کو بخش دے، تو ہی غفور و رحیم یعنی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے " تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: " اس کے گناہ بخش دیے گئے۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1302]
1302۔ اردو حاشیہ: ➊ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ عظیم خوش خبری نہ صرف حضرت محجن رضی اللہ عنہ کے لیے تھی بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس انداز سے دعا کرے۔ یہ دعا بھی اسم اعظم کے ساتھ ہی ہے کیونکہ مذکورہ اوصاف باری تعالیٰ کی ذات بے مثال کے ساتھ خاص ہیں۔ کسی میں ان کا شمہ بھی نہیں پایا جاتا۔
➋ نماز سے فارغ ہو کر اذکار کرنے کے بعد دعا کرنا مستحسن امر ہے۔
➌ اپنی حاجت کا مطالبہ کرنے سے پہلے مذکورہ الفاظ کہنے سے اللہ تعالیٰ بندے کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے، بشرطیکہ اس میں بقیہ شرائط موجود ہوں، مثلاً: اس کا کھانا، پینا اور لباس حلال کا ہو۔
➍ اللہ تعالیٰ کے تمام نام ہی مقدس و بابرکت ہیں لیکن ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جن کی تاثیر باقی سے بڑھ کر ہے۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1302 سے ماخوذ ہے۔