سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب التَّشَهُّدِ باب: تشہد (التحیات) کا بیان۔
حدیث نمبر: 973
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ ،حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي غَلَّابٍ يُحَدِّثُهُ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، زَادَ " فَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ، وَقَالَ فِي التَّشَهُّدِ بَعْدَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ زَادَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَقَوْلُهُ فَأَنْصِتُوا لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ لَمْ يَجِئْ بِهِ إِلَّا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے ، اس میں ( سلیمان تیمی ) نے یہ اضافہ کیا ہے کہ` جب وہ قرآت کرے تو تم خاموش رہو ، اور انہوں نے تشہد میں «أشهد أن لا إله إلا الله» کے بعد «وحده لا شريك له» کا اضافہ کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : آپ کا قول : «فأنصتوا» محفوظ نہیں ہے ، اس حدیث کے اندر یہ لفظ صرف سلیمان تیمی نے نقل کیا ہے ۔