حدیث نمبر: 970
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، قَالَ : أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي فَحَدَّثَنِي، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِيَدِهِ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِ " فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ ، فَذَكَرَ مِثْلَ دُعَاءِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، إِذَا قُلْتَ هَذَا أَوْ قَضَيْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قاسم بن مخیمرہ کہتے ہیں کہ` علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑا ( اور انہیں نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ان کو نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے ، پھر راوی نے اعمش کی حدیث کی دعا کے مثل ذکر کیا ، اس میں ( اتنا اضافہ ) ہے کہ جب تم نے یہ دعا پڑھ لی یا پوری کر لی تو تمہاری نماز پوری ہو گئی ، اگر کھڑے ہونا چاہو تو کھڑے ہو جاؤ اور اگر بیٹھے رہنا چاہو تو بیٹھے رہو ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 970
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ بزيادة إذا قلت , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, وأصله عند النسائي (1168) وقوله: ’’إذا قلت ھذا‘‘ مدرج باتفاق الحفاظ، انظر المدرج إلي المدرج للسيوطي (ص20)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9474)، وانظر رقم (968)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/422) (شاذ) » ( «إذا قلت...الخ» کا اضافہ شاذ ہے صحیح بات یہ ہے کہ یہ ٹکڑا ابن مسعود کا اپنا قول ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´تشہد (التحیات) کا بیان۔`
قاسم بن مخیمرہ کہتے ہیں کہ علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑا (اور انہیں نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ان کو نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے، پھر راوی نے اعمش کی حدیث کی دعا کے مثل ذکر کیا، اس میں (اتنا اضافہ) ہے کہ جب تم نے یہ دعا پڑھ لی یا پوری کر لی تو تمہاری نماز پوری ہو گئی، اگر کھڑے ہونا چاہو تو کھڑے ہو جاؤ اور اگر بیٹھے رہنا چاہو تو بیٹھے رہو۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 970]
970۔ اردو حاشیہ:
اس روایت کا یہ حصہ «واذ قلت» "جب تم یہ کہہ لو" آخر تک حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ان کا اپنا قول اور حدیث میں مدرج ہے۔ دیکھئے: [عون المبعود]
اور حق یہ ہے کہ تشہد پڑھنا واجب ہے۔
➋ نقل احادیث میں اس قسم کے لطائف موجود ہیں کہ راوی حدیث بیان کرنے میں اپنے شیخ کی ظاہری کیفیت کو بھی اختیار کرتے تھے، جیسے کہ اس میں ہاتھ پکڑ کر حدیث بیان کرنے کا ذکر آیا ہے اور اسے "مسلسل" کی ایک نوع قرار دیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 970 سے ماخوذ ہے۔