سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب مَنْ ذَكَرَ التَّوَرُّكَ فِي الرَّابِعَةِ باب: چوتھی رکعت میں تورک (سرین پر بیٹھنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 967
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، أَخْبَرَنِي فُلَيْحٌ ، أَخْبَرَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالَ : اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ، وَأَبُو أُسَيْدٍ ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ إِذَا قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ وَلَا الْجُلُوسَ ، قَالَ : " حَتَّى فَرَغَ ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ، وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قِبْلَتِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فلیح کہتے ہیں : عباس بن سہل نے مجھے خبر دی ہے کہ` ابوحمید ، ابواسید ، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ اکٹھا ہوئے ، پھر انہوں نے یہی حدیث ذکر کی اور دو رکعت پڑھ کر کھڑے ہوتے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی بیٹھنے کا ، وہ کہتے ہیں : یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو گئے پھر بیٹھے اور اپنا بایاں پیر بچھایا اور اپنے داہنے پاؤں کی انگلیاں قبلہ کی جانب کیں ۔