سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب مَنْ ذَكَرَ التَّوَرُّكَ فِي الرَّابِعَةِ باب: چوتھی رکعت میں تورک (سرین پر بیٹھنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 965
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ،حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْعَامِرِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ فِيهِ : " فَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلَى بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى ، فَإِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ أَفْضَى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى إِلَى الْأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن عمرو عامری کہتے ہیں کہ` میں ایک مجلس میں تھا ، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی جس میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھ کر بیٹھتے تو اپنے بائیں قدم کے تلوے پر بیٹھتے اور اپنا داہنا پیر کھڑا رکھتے پھر جب چوتھی رکعت ہوتی تو اپنی بائیں سرین کو زمین سے لگاتے اور اپنے دونوں قدموں کو ایک طرف نکال لیتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´چوتھی رکعت میں تورک (سرین پر بیٹھنے) کا بیان۔`
محمد بن عمرو عامری کہتے ہیں کہ میں ایک مجلس میں تھا، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی جس میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھ کر بیٹھتے تو اپنے بائیں قدم کے تلوے پر بیٹھتے اور اپنا داہنا پیر کھڑا رکھتے پھر جب چوتھی رکعت ہوتی تو اپنی بائیں سرین کو زمین سے لگاتے اور اپنے دونوں قدموں کو ایک طرف نکال لیتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 965]
محمد بن عمرو عامری کہتے ہیں کہ میں ایک مجلس میں تھا، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی جس میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھ کر بیٹھتے تو اپنے بائیں قدم کے تلوے پر بیٹھتے اور اپنا داہنا پیر کھڑا رکھتے پھر جب چوتھی رکعت ہوتی تو اپنی بائیں سرین کو زمین سے لگاتے اور اپنے دونوں قدموں کو ایک طرف نکال لیتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 965]
965۔ اردو حاشیہ:
آخری تشہد میں یہ صورت کہ دایاں پاؤں بھی دائیں جانب کو لٹا لیا جائے جائز ہے۔
آخری تشہد میں یہ صورت کہ دایاں پاؤں بھی دائیں جانب کو لٹا لیا جائے جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 965 سے ماخوذ ہے۔