حدیث نمبر: 956
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ السُّورَةَ فِي رَكْعَةٍ ؟ قَالَتْ : الْمُفَصَّلَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَكَانَ يُصَلِّي قَاعِدًا ؟ قَالَتْ : حِينَ حَطَمَهُ النَّاسُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری سورت ایک رکعت میں پڑھتے تھے ؟ انہوں نے کہا : ( ہاں ) مفصل کی ، پھر میں نے پوچھا : کیا آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے ؟ انہوں نے کہا : جس وقت لوگوں ( کے کثرت معاملات ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکستہ ( یعنی بوڑھا ) کر دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 956
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح م دون الشطر الثاني منه , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (732)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المسافرین 16 (732)، (تحفة الأشراف: 16220)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/171، 204) (صحیح) الشطر الثاني منہ »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری سورت ایک رکعت میں پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: (ہاں) مفصل کی، پھر میں نے پوچھا: کیا آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: جس وقت لوگوں (کے کثرت معاملات) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکستہ (یعنی بوڑھا) کر دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 956]
956۔ اردو حاشیہ:
➊ یعنی معقول عذر کے بغیر بیٹھ کر نماز پڑھنا مناسب نہیں ہے۔
➋ دعوت، تزکیہ جہاد اور سخت ترین عبادت کے مسلسل عمل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فی الواقع تھکا دیا تھا۔
➌ ایک رکعت میں ایک سے زیادہ سورتیں پڑھنا بھی جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 956 سے ماخوذ ہے۔