سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب فِي صَلاَةِ الْقَاعِدِ باب: بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالٍ يَعْنِي ابْنَ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ " فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا ، فَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى رَأْسِي ، فَقَالَ : " مَا لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ؟ " ، قُلْتُ : حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَّكَ قُلْتَ : " صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ " ، وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا ، قَالَ : " أَجَلْ وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ " .
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` مجھ سے بیان کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” بیٹھ کر پڑھنے والے شخص کی نماز آدھی نماز ہے “ ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے ( تعجب سے ) اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” عبداللہ بن عمرو ! کیا بات ہے ؟ “ ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے : ” بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو نصف ثواب ملتا ہے “ اور آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں سچ ہے ، لیکن میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”بیٹھ کر پڑھنے والے شخص کی نماز آدھی نماز ہے“، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے (تعجب سے) اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”عبداللہ بن عمرو! کیا بات ہے؟“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے: ”بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو نصف ثواب ملتا ہے“ اور آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں سچ ہے، لیکن میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 950]
➊ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی کہ نوافل بیٹھ کر پڑھتے تو پورا ثواب پاتے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سمجھتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شرعی امور کے اس طرح پابند ہیں، جس طرح کہ امت ہے۔ «آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ» [البقره۔ 285]
مگر جہاں آپ کی خصوصیت بیان ہو گئی ہے وہاں استثناء ہے۔
➋ بلا عذر بیٹھ کر نفل نماز پڑھنے سے آدمی کو آدھا ثواب ملتا ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اس وقت وہ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے مقابلے میں (ثواب میں) آدھی ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1229]
فائدہ: یہ اس صورت میں ہے جب بلا عذر بیٹھ کر نماز پڑھی جائے جیسے بعض لوگ فرض نمازوں کے بعد بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر دو نفل پڑھتے ہیں۔