حدیث نمبر: 942
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَيُّوبَ ، قَالَ : قَوْلُهُ التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ : تَضْرِبُ بِأُصْبُعَيْنِ مِنْ يَمِينِهَا عَلَى كَفِّهَا الْيُسْرَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عیسیٰ بن ایوب کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد «التصفيح للنساء» سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ کی دونوں انگلیاں اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ماریں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 942
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الوليد بن مسلم عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 46
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9188) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نماز میں عورتوں کے تالی بجانے کا بیان۔`
عیسیٰ بن ایوب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد «التصفيح للنساء» سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ کی دونوں انگلیاں اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ماریں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 942]
942۔ اردو حاشیہ:
عیسیٰ بن ایو ب تبع تابعین میں سے ہیں، چونکہ نماز میں امام کو متنبہ کرنا مقصود ہوتا ہے، اس لئے دو انگلیوں سے ہی کافی ہے، سب انگلیوں سے تالی بجانا لہوولعب میں شمار ہوتا ہے، اس لئے فرق کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 942 سے ماخوذ ہے۔