سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب التَّأْمِينِ وَرَاءَ الإِمَامِ باب: امام کے پیچھے آمین کہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ الدِّمَشْقِيُّ ، وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنْ صُبَيْحِ بْنِ مُحْرِزٍ الْحِمْصِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُصَبِّحٍ الْمَقْرَائِيُّ ، قَالَ : كُنَّا نَجْلِسُ إِلَى أَبِي زُهَيْرٍ النُّمَيْرِيِّ ، وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ ، فَيَتَحَدَّثُ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ ، فَإِذَا دَعَا الرَّجُلُ مِنَّا بِدُعَاءٍ ، قَالَ : اخْتِمْهُ بِآمِينَ ، فَإِنَّ آمِينَ مِثْلُ الطَّابَعِ عَلَى الصَّحِيفَةِ . قَالَ أَبُو زُهَيْرٍ : أُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَلَحَّ فِي الْمَسْأَلَةِ ، فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُ مِنْهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْجَبَ إِنْ خَتَمَ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : بِأَيِّ شَيْءٍ يَخْتِمُ ؟ قَالَ : "بِآمِينَ ، فَإِنَّهُ إِنْ خَتَمَ بِآمِينَ فَقَدْ أَوْجَبَ " ، فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ الَّذِي سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى الرَّجُلَ ، فَقَالَ : اخْتِمْ يَا فُلَانُ بِآمِينَ وَأَبْشِرْ . وَهَذَا لَفْظٌ مَحْمُودٌ . قَالَ أَبُو دَاوُد : الْمَقْرَاءُ : قَبِيلٌ مِنْ حِمْيَرَ .
´ابومصبح مقرائی کہتے ہیں کہ` ہم ابوزہیر نمیری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا کرتے تھے ، وہ صحابی رسول تھے ، وہ ( ہم سے ) ا چھی اچھی حدیثیں بیان کرتے تھے ، جب ہم میں سے کوئی دعا کرتا تو وہ کہتے : اسے آمین پر ختم کرو ، کیونکہ آمین کتاب پر لگی ہوئی مہر کی طرح ہے ۔ ابوزہیر نے کہا : میں تمہیں اس کے بارے میں بتاؤں ؟ ایک رات ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، ہم لوگ ایک شخص کے پاس پہنچے جو نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر سننے لگے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اس نے ( اپنی دعا پر ) مہر لگا لی تو اس کی دعا قبول ہو گئی “ ، اس پر ایک شخص نے پوچھا : کس چیز سے وہ مہر لگائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آمین سے ، اگر اس نے آمین سے ختم کیا تو اس کی دعا قبول ہو گئی “ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن کر وہ شخص ( جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا ) اس آدمی کے پاس آیا جو دعا کر رہا تھا اور اس سے کہا : اے فلاں ! تم اپنی دعا پر آمین کی مہر لگا لو اور خوش ہو جاؤ ۔