حدیث نمبر: 937
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رَاهَوَيْهِ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ بِلَالٍ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ مجھ سے پہلے آمین نہ کہا کیجئے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اتنی مہلت دیا کیجئے کہ میں سورۃ فاتحہ سے فارغ ہو جاؤں تاکہ آپ کی اور میری آمین ساتھ ہوا کرے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بات مروان سے کہا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 937
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, الثوري تابعه شعبة عند احمد (6/ 15 ح 23920 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (573) والحاكم علي شرط الشيخين (1/ 219 وقال: وأبو عثمان النهدي مخضرم، قد أدرك الطائفة الأولي من الصحابة) ووافقه الذھبي، قلت: رواية أبي عثمان النھدي عن بلال الحبشي محمولة علي السماع، انظر الجوھر النقي (2/ 23) قال معاذ: والثوري تابعه عباد بن عباد وأبو شھاب عبدربه بن نافع في مسائل حرب الكرماني (827، نسخه أخريٰ: 458، وسنده صحيح)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2044)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/12) (ضعیف) » (ابوعثمان نہدی کی ملاقات بلال رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´امام کے پیچھے آمین کہنے کا بیان۔`
بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھ سے پہلے آمین نہ کہا کیجئے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 937]
937۔ اردو حاشیہ:
یعنی نماز شروع ہو چکی تھی، وہ تاخیر سے آئے تو کہا: مجھے موقع دیجئے کہ میں بھی نماز میں مل کر آپ کے ساتھ آمین کہہ سکوں۔ اس کی سند مرسل ہے کہ ابوعثمان کی بلال رضی اللہ عنہ سے ملاقات میں کلام ہے۔ جبکہ امام دارقطنی رحمہ اللہ وغیرہ اسے موصول قرار دیتے ہیں۔ [عون المعبود]
بہرحال اگر امام کو کہہ دیا جائے کہ ذرا قرأت کو طویل کر دیں اور وہ اسے قبول کر لے تو کوئی حرج نہیں، صحیح بخاری میں ہے: «باب اذا قيل للمصلي تقدم اوانتظر فانتظر فلا باس» [صحيح بخاري كتاب العمل فى الصلواة باب 14]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 937 سے ماخوذ ہے۔