سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب مَا يُجْزِئُ مِنَ الْمَاءِ فِي الْوُضُوءِ باب: وضو کے لیے کتنا پانی کافی ہے؟
حدیث نمبر: 92
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ سَمِعْتُ صَفِيَّةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع سے غسل فرماتے تھے اور ایک مد سے وضو ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ایک صاع چار مد کا ہوتا ہے اور ایک مد تقریباً چھ سو پچیس (۶۲۵) گرام کا، اس اعتبار سے صاع تقریباً دو کلو پانچ سو گرام ہوا۔