حدیث نمبر: 916
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، عَنْ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي السَّلُولِيُّ هُوَ أَبُو كَبْشَةَ ، عَنْ سَهْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ ، قَالَ : ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ ، يَعْنِي صَلَاةَ الصُّبْحِ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي وَهُوَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَانَ أَرْسَلَ فَارِسًا إِلَى الشِّعْبِ مِنَ اللَّيْلِ يَحْرُسُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` نماز یعنی فجر کے لیے تکبیر کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے اور آپ گھاٹی کی طرف کنکھیوں سے دیکھتے جاتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : آپ نے رات میں نگرانی کے لیے ایک گھڑ سوار گھاٹی کی طرف بھیج رکھا تھا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 916
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, صححه ابن خزيمة (487 وسنده حسن)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود،(تحفة الأشراف: 4651) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´گردن موڑے بغیر نماز میں کنکھیوں سے دیکھنے کی رخصت کا بیان۔`
سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نماز یعنی فجر کے لیے تکبیر کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے اور آپ گھاٹی کی طرف کنکھیوں سے دیکھتے جاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: آپ نے رات میں نگرانی کے لیے ایک گھڑ سوار گھاٹی کی طرف بھیج رکھا تھا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 916]
916۔ اردو حاشیہ:
یہ حدیث اور دیگر وہ احادیث جن میں التفات سے منع کیا گیا ہے، ان کے درمیان تطبیق یوں دی گئی ہے کہ گردن موڑے بغیر اشد ضرورت سے دیکھنا جائز ہے ورنہ ممنوع۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 916 سے ماخوذ ہے۔