سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب الاِلْتِفَاتِ فِي الصَّلاَةِ باب: نماز میں گردن موڑ کر ادھر ادھر دیکھنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 909
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُنَا فِي مَجْلِسِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ ، فَإِذَا الْتَفَتَ انْصَرَفَ عَنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” اللہ تعالیٰ حالت نماز میں بندے پر اس وقت تک متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہیں دیکھتا ہے ، پھر جب وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لیتا ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1196 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کی شناعت کا بیان۔`
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” برابر اللہ بندے پر اس کی نماز میں متوجہ رہتا ہے اس وقت تک جب تک کہ وہ ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتا، اور جب وہ رخ پھیر لیتا ہے تو اللہ بھی اس سے پھر جاتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1196]
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” برابر اللہ بندے پر اس کی نماز میں متوجہ رہتا ہے اس وقت تک جب تک کہ وہ ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتا، اور جب وہ رخ پھیر لیتا ہے تو اللہ بھی اس سے پھر جاتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1196]
1196۔ اردو حاشیہ: ➊ نماز میں ادھر ادھر جھانکنا سخت منع ہے۔
➋ اس حدیث مبارکہ سے نماز کی فضیلت و اہمیت بھی واضح ہوتی ہے کہ نماز اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر متوجہ ہونے کا سبب ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر کمال لطف و کرم ہے۔
➌ نماز میں جھانکنا اللہ تعالیٰ سے اعراض کرنا ہے۔ جب بندہ اللہ کی رحمت سے خود ہی منہ موڑتا ہے تواللہ تعالیٰ بھی اس سے اعراض فرما لیتا ہے، لہٰذا نماز میں کسی طرف جھانکا نہیں جا سکتا۔ ہاں، نماز میں کسی مجبوری کی وجہ سے جھانکنا پڑے تو الگ بات ہے، مثلاً: امام کا کسی ضرورت کے تحت مقتدیوں کی طرف یا مقتدیوں کا ضرورت کی بنا پر امام کی طرف جھانکنا۔ ان صورتوں میں بھی کنکھیوں ہی سے کام لینا چاہیے، نہ کہ پورا منہ قبلے سے ہٹا لیا جائے، جیسا کہ اگلے باب کی حدیث میں آ رہا ہے۔
➋ اس حدیث مبارکہ سے نماز کی فضیلت و اہمیت بھی واضح ہوتی ہے کہ نماز اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر متوجہ ہونے کا سبب ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر کمال لطف و کرم ہے۔
➌ نماز میں جھانکنا اللہ تعالیٰ سے اعراض کرنا ہے۔ جب بندہ اللہ کی رحمت سے خود ہی منہ موڑتا ہے تواللہ تعالیٰ بھی اس سے اعراض فرما لیتا ہے، لہٰذا نماز میں کسی طرف جھانکا نہیں جا سکتا۔ ہاں، نماز میں کسی مجبوری کی وجہ سے جھانکنا پڑے تو الگ بات ہے، مثلاً: امام کا کسی ضرورت کے تحت مقتدیوں کی طرف یا مقتدیوں کا ضرورت کی بنا پر امام کی طرف جھانکنا۔ ان صورتوں میں بھی کنکھیوں ہی سے کام لینا چاہیے، نہ کہ پورا منہ قبلے سے ہٹا لیا جائے، جیسا کہ اگلے باب کی حدیث میں آ رہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1196 سے ماخوذ ہے۔