مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 907
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَحْيَى الْكَاهِلِيِّ ، عَنْ الْمُسَوَّرِ بْنِ يَزِيدَ الْأَسَدِيِّ الْمَالِكِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَحْيَى ، وَرُبَّمَا قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ ، فَتَرَكَ شَيْئًا لَمْ يَقْرَأْهُ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلَّا أَذْكَرْتَنِيهَا " . قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : كُنْتُ أُرَاهَا نُسِخَتْ . وقَالَ سُلَيْمَانُ : قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُسَوَّرُ بْنُ يَزِيدَ الْأَسَدِيُّ الْمَالِكِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مسور بن یزید مالکی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں قرآت کر رہے تھے ، ( یحییٰ کی روایت میں ہے کبھی مسور نے یوں کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں قرآت کر رہے تھے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آیتیں چھوڑ دیں ، انہیں نہیں پڑھا ( نماز کے بعد ) ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے فلاں فلاں آیتیں چھوڑ دی ہیں ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے مجھے یاد کیوں نہیں دلایا ؟ “ ۔ سلیمان نے اپنی روایت میں کہا کہ : میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ منسوخ ہو گئی ہیں -سلیمان کی روایت میں ہے کہ مجھ سے یحییٰ بن کثیر ازدی نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں : ہم سے مسور بن یزید اسدی مالکی نے بیان کیا ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ، اس میں قرآت کی تو آپ کو شبہ ہو گیا ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا : ” کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے ؟ “ ، ابی نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں ( لقمہ دینے سے ) کس چیز نے روک دیا ؟ “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 907
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, حديث أول: فيه يحيي بن كثير الكاھلي وثقه ابن حبان والجمھور وحديثه لا ينزل عن درجة الحسن، وحديث الثاني: أعله الإمام أبو حاتم في علل الحديث (1/77، 78) بعلة غير قادحة والله أعلم

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نماز میں امام بھول جائے تو اس کو لقمہ دینے کا بیان۔`
مسور بن یزید مالکی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں قرآت کر رہے تھے، (یحییٰ کی روایت میں ہے کبھی مسور نے یوں کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں قرآت کر رہے تھے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آیتیں چھوڑ دیں، انہیں نہیں پڑھا (نماز کے بعد) ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں آیتیں چھوڑ دی ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے یاد کیوں نہیں دلایا؟۔‏‏‏‏ سلیمان نے اپنی روایت میں کہا کہ: میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ منسوخ ہو گئی ہیں -سلیمان کی روایت میں ہے کہ مجھ سے یحییٰ بن کثیر ازدی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے مسور بن یزید اسدی مالکی نے بیان کیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، اس میں قرآت کی تو آپ کو شبہ ہو گیا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟، ابی نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں (لقمہ دینے سے) کس چیز نے روک دیا؟۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 907]
907۔ اردو حاشیہ:
بشری تقاضوں کے تحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرأت میں کچھ بھول ہوئی جس سے ایک تو آپ کی بشریت کا اثبات ہوا، آپ کا بھولنا امت کے لیے تعلیم و تشریع کا ذریعہ بن گیا، قرآن مجید میں ہے «سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰ ٭ إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ» [87-الأعلى:6]
امام اگر قرأت میں بھولے تو اسے وہ آیات بتائی جائیں، اگر دوسرے ارکان بھول رہا ہو تو «سبحان الله» کہا جائے اور عورت الٹے ہاتھ پر تالی بجا کر متنبہ کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 907 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔