سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ لِلضَّرُورَةِ باب: ضرورت کے وقت سجدہ میں کہنیوں کو زانو پر لگانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 902
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : اشْتَكَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَقَّةَ السُّجُودِ عَلَيْهِمْ إِذَا انْفَرَجُوا ، فَقَالَ : " اسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ سے شکایت کی کہ جب لوگ پھیل کر سجدہ کرتے ہیں تو سجدے میں ہمیں تکلیف ہوتی ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زانو ( گھٹنے ) سے مدد لے لیا کرو ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی کہنیوں کو گھٹنوں پر ٹیک دیا کرو۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ضرورت کے وقت سجدہ میں کہنیوں کو زانو پر لگانے کی اجازت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ سے شکایت کی کہ جب لوگ پھیل کر سجدہ کرتے ہیں تو سجدے میں ہمیں تکلیف ہوتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زانو (گھٹنے) سے مدد لے لیا کرو ۱؎۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 902]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ سے شکایت کی کہ جب لوگ پھیل کر سجدہ کرتے ہیں تو سجدے میں ہمیں تکلیف ہوتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زانو (گھٹنے) سے مدد لے لیا کرو ۱؎۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 902]
902۔ اردو حاشیہ:
بیمار اور ضعیف کے لئے سجدوں میں رانوں کا سہارا لینا مباح ہے کیونکہ وہ معذورہوتا ہے۔
بیمار اور ضعیف کے لئے سجدوں میں رانوں کا سہارا لینا مباح ہے کیونکہ وہ معذورہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 902 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 286 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سجدے میں ٹیک لگانے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ بعض صحابہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدے میں دونوں ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے اور پیٹ کو ران سے جدا رکھنے کی صورت میں (تکلیف کی) شکایت کی، تو آپ نے فرمایا: گھٹنوں سے (ان پر ٹیک لگا کر) مدد لے لیا کرو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 286]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ بعض صحابہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدے میں دونوں ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے اور پیٹ کو ران سے جدا رکھنے کی صورت میں (تکلیف کی) شکایت کی، تو آپ نے فرمایا: گھٹنوں سے (ان پر ٹیک لگا کر) مدد لے لیا کرو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 286]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی کہنیاں گھٹنوں پر رکھ لیا کرو تاکہ تکلیف کم ہو۔
نوٹ:
(محمد بن عجلان کی اس روایت کو ان سے زیادہ ثقہ اور معتبر رواۃ نے مرسلاً ذکر کیا ہے، اور ابو ہریرہ کا تذکرہ نہیں کیا، اس لیے ان کی یہ روایت ضعیف ہے، دیکھئے: ضعیف سنن ابی داود: ج9/رقم: 832)
1؎:
یعنی کہنیاں گھٹنوں پر رکھ لیا کرو تاکہ تکلیف کم ہو۔
نوٹ:
(محمد بن عجلان کی اس روایت کو ان سے زیادہ ثقہ اور معتبر رواۃ نے مرسلاً ذکر کیا ہے، اور ابو ہریرہ کا تذکرہ نہیں کیا، اس لیے ان کی یہ روایت ضعیف ہے، دیکھئے: ضعیف سنن ابی داود: ج9/رقم: 832)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 286 سے ماخوذ ہے۔