حدیث نمبر: 900
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا أَحْمَرُ بْنُ جَزْءٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا سَجَدَ جَافَى عَضُدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ حَتَّى نَأْوِيَ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´احمر بن جزء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں بازو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھتے یہاں تک کہ ہمیں ( آپ کی تکلیف و مشقت پر ) رحم آ جاتا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 900
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه ابن ماجه (886 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 19 (880)، (تحفة الأشراف: 80)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/30، 4/342، 5/31) (حسن صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 886

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سجدہ کرنے کا طریقہ۔`
احمر بن جزء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں بازو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھتے یہاں تک کہ ہمیں (آپ کی تکلیف و مشقت پر) رحم آ جاتا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 900]
900۔ اردو حاشیہ:
یعنی ہاتھوں کو اپنی پسلیوں سے خوب دور کر کے رکھتے تھے اسی وجہ سے دیکھنے والوں کو ترس آتا کہ آپ بہت مشقت میں ہیں، مگر جماعت اور صف میں یہ صورت نہیں ہو سکتی۔ تاہم اگر بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے ایسانہ ہو سکتا ہو تو اس کے لئے رخصت ہے کہ وہ جس طرح سجدہ کر سکتا ہے کر لے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 900 سے ماخوذ ہے۔