حدیث نمبر: 895
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی معمر سے` اسی طرح کی روایت آئی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 895
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (813) صحيح مسلم (1167)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4419) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ناک اور پیشانی پر سجدہ کرنے کا بیان۔`
اس سند سے بھی معمر سے اسی طرح کی روایت آئی ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 895]
895۔ اردو حاشیہ:
سجدے میں انسان کی پیشانی ننگی ہو اور براہ راست زمین یا مصلے پر لگے تو راحج اور افضل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی پگڑی کی پٹی یا تہہ پر سجدہ کرنا ثابت نہیں ہے، مگر کچھ صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین کے آثار ضرور ثابت ہیں۔ دیکھیے: [نيل الاوطار 290/2]
نیز پیشانی کے ساتھ نا ک بھی زمین پر لگانی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 895 سے ماخوذ ہے۔