سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب مِقْدَارِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ باب: رکوع اور سجدے کی مقدار کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، وَابْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مَانُوسٍ ، قَالَ :سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى ، يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : " فَحَزَرْنَا فِي رُكُوعِهِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ ، وَفِي سُجُودِهِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ : قُلْتُ لَهُ : مَانُوسٌ أَوْ مَابُوسٌ ، قَالَ : أَمَّا عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَيَقُولُ : مَابُوسٌ ، وَأَمَّا حِفْظِي : فَمَانُوسٌ ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ رَافِعٍ . قَالَ أَحْمَدُ :عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ .
´سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ` میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہو سعید بن جبیر کہتے ہیں : تو ہم نے ان کے رکوع اور سجدہ میں دس دس مرتبہ تسبیح کہنے کا اندازہ کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : احمد بن صالح کا بیان ہے : میں نے عبداللہ بن ابراہیم بن عمر بن کیسان سے پوچھا : ( وہب کے والد کا نام ) مانوس ہے یا مابوس ؟ تو انہوں نے کہا : عبدالرزاق تو مابوس کہتے تھے لیکن مجھے مانوس یاد ہے ، یہ ابن رافع کے الفاظ ہیں اور احمد نے ( اسے «سمعت» کے بجائے «عن» سے یعنی : «عن سعيد بن جبير عن أنس بن مالك» روایت کی ہے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہو سعید بن جبیر کہتے ہیں: تو ہم نے ان کے رکوع اور سجدہ میں دس دس مرتبہ تسبیح کہنے کا اندازہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد بن صالح کا بیان ہے: میں نے عبداللہ بن ابراہیم بن عمر بن کیسان سے پوچھا: (وہب کے والد کا نام) مانوس ہے یا مابوس؟ تو انہوں نے کہا: عبدالرزاق تو مابوس کہتے تھے لیکن مجھے مانوس یاد ہے، یہ ابن رافع کے الفاظ ہیں اور احمد نے (اسے «سمعت» کے بجائے «عن» سے یعنی: «عن سعيد بن جبير عن أنس بن مالك» روایت کی ہے)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 888]
شیخ شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رکوع اور سجود میں زیادہ سے زیادہ عدد کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ نماز کی طوالت کے اعتبار سے زیادہ سے زیادہ بغیر کسی مدد معین کے تسبیحات کہی جا سکتی ہیں۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے ہلکی اور کامل نماز پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 825]
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ ہلکی اور سب زیادہ مکمل نماز پڑھنے والے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 237]
1؎:
’’سب سے ہلکی نماز ہوتی تھی‘‘ سے مراد یہ ہے کہ آپ لمبی قرأت نہیں کرتے تھے، اسی طرح لمبی دعاؤں سے بھی بچتے تھے، اور سب سے زیادہ مکمل نماز کا مطلب یہ ہے کہ آپ نماز کے جملہ ارکان و سنن اور مستحبات کو بحسن و خوبی اطمینان سے ادا کرتے تھے۔