سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ باب: آدمی رکوع اور سجدے میں کیا کہے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً " فَقَامَ فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ فَسَأَلَ ، وَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ فَتَعَوَّذَ ، قَالَ : ثُمَّ رَكَعَ بِقَدْرِ قِيَامِهِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ : سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ، ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ قِيَامِهِ ، ثُمَّ قَالَ فِي سُجُودِهِ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِآلِ عِمْرَانَ ، ثُمَّ قَرَأَ سُورَةً سُورَةً " .
´عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( نماز پڑھنے کے لیے ) کھڑا ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے سورۃ البقرہ پڑھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی رحمت والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور سوال کرتے ، اور کسی عذاب والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور اس سے پناہ مانگتے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قیام کے بقدر لمبا رکوع کیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع میں : «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» پڑھا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قیام کے بقدر لمبا سجدہ کیا ، سجدے میں بھی آپ نے وہی دعا پڑھی ، جو رکوع میں پڑھی تھی پھر اس کے بعد کھڑے ہوئے اور سورۃ آل عمران پڑھی ، پھر ( بقیہ رکعتوں میں ) ایک ایک سورۃ پڑھی ۔