حدیث نمبر: 867
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ قَال أَبُو دَاوُد وَاسْمُهُ وَقْدَان ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي فَجَعَلْتُ يَدَيَّ بَيْنَ رُكْبَتَيَّ ، فَنَهَانِي عَنْ ذَلِكَ فَعُدْتُ ، فَقَالَ : لَا تَصْنَعْ هَذَا ، فَإِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ فَنُهِينَا عَنْ ذَلِكَ ، وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ أَيْدِيَنَا عَلَى الرُّكَبِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مصعب بن سعد کہتے ہیں` میں نے اپنے والد کے بغل میں نماز پڑھی تو میں نے ( رکوع میں ) اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں کر لیے تو انہوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کیا ، پھر میں نے دوبارہ ایسے ہی کیا تو انہوں نے کہا : تم ایسا نہ کیا کرو کیونکہ پہلے ہم بھی ایسا ہی کرتے تھے ، پھر ہم کو ایسا کرنے سے روک دیا گیا اور ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 867
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (790) صحيح مسلم (535)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأذان 118 (790)، صحیح مسلم/المساجد 5 (535)، سنن الترمذی/الصلاة 80 (259)، سنن النسائی/الافتتاح 91(1033)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 17 (873)، تحفة الأشراف (3929)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 181، 182)، سنن الدارمی/الصلاة 68 (1341) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´رکوع میں دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنے کا بیان۔`
مصعب بن سعد کہتے ہیں میں نے اپنے والد کے بغل میں نماز پڑھی تو میں نے (رکوع میں) اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں کر لیے تو انہوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کیا، پھر میں نے دوبارہ ایسے ہی کیا تو انہوں نے کہا: تم ایسا نہ کیا کرو کیونکہ پہلے ہم بھی ایسا ہی کرتے تھے، پھر ہم کو ایسا کرنے سے روک دیا گیا اور ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 867]
867۔ اردو حاشیہ:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ کہنا ہمیں حکم دیا گیا۔ یا ’’ہمیں روک دیا گیا یہ سب مرفوع احادیث کے معنی میں آتے ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کوئی نہ تھا جو انہیں ایسی ہدایات دیتا۔
➊ رکوع میں تطبیق یعنی گھٹنوں کے درمیان ہاتھ دے کر کھڑے ہونا منسوخ عمل ہے، صرف حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ چند ایک صحابہ ہی اس پر عمل کرتے رہے تھے، جیسے کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 867 سے ماخوذ ہے۔