حدیث نمبر: 866
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْمَعْنَى ، قَالَ : " ثُمَّ الزَّكَاةُ مِثْلُ ذَلِكَ ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´تمیم داری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً روایت کی ہے` اس میں ہے : ” پھر زکاۃ کا یہی حال ہو گا ، پھر تمام اعمال کا حساب اسی طرح سے ہو گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 866
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (1330), أخرجه ابن ماجه (1426 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 202 (1426)، (تحفة الأشراف: 2054)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/103) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´فرمان نبوی جس شخص کی فرض نماز نامکمل ہو گی اس کو نفل سے پورا کیا جائے گا۔`
تمیم داری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً روایت کی ہے اس میں ہے: پھر زکاۃ کا یہی حال ہو گا، پھر تمام اعمال کا حساب اسی طرح سے ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 866]
866۔ اردو حاشیہ:
یعنی تمام اعمال میں پہلے فرائض کو دیکھا جائے گا، وہ کامل ہوئے تو بہتر ورنہ اس کے بعد نوافل سے فرضوں کی کمی پوری کی جائے گی۔ جیسے نفلی نمازوں سے فرض نمازوں کی اور نفلی صدقے سے فرضی زکواۃ کی کمی پوری کی جائے گی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 866 سے ماخوذ ہے۔