سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب صَلاَةِ مَنْ لاَ يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ باب: رکوع اور سجدہ میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھنے والے کی نماز کا حکم۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : " إِذَا قُمْتَ فَتَوَجَّهْتَ إِلَى الْقِبْلَةِ فَكَبِّرْ ، ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَبِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَقْرَأَ ، وَإِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ وَامْدُدْ ظَهْرَكَ ، وَقَالَ : إِذَا سَجَدْتَ فَمَكِّنْ لِسُجُودِكَ ، فَإِذَا رَفَعْتَ فَاقْعُدْ عَلَى فَخِذِكَ الْيُسْرَى " .
´اس سند سے بھی رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے اس میں ہے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو اور اپنا رخ ( چہرہ ) قبلہ کی طرف کر لو تو تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہو ، پھر سورۃ فاتحہ پڑھو اور قرآن مجید میں سے جس کی اللہ توفیق دے پڑھو ، پھر جب رکوع میں جاؤ تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو اور اپنی پیٹھ برابر رکھو “ ، اور فرمایا : ” جب تم سجدہ میں جاؤ تو اپنے سجدوں میں ( پیشانی کو ) ٹکائے رکھو اور جب سجدے سے سر اٹھاؤ تو اپنی بائیں ران پر بیٹھو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس سند سے بھی رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو اور اپنا رخ (چہرہ) قبلہ کی طرف کر لو تو تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہو، پھر سورۃ فاتحہ پڑھو اور قرآن مجید میں سے جس کی اللہ توفیق دے پڑھو، پھر جب رکوع میں جاؤ تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو اور اپنی پیٹھ برابر رکھو“، اور فرمایا: ”جب تم سجدہ میں جاؤ تو اپنے سجدوں میں (پیشانی کو) ٹکائے رکھو اور جب سجدے سے سر اٹھاؤ تو اپنی بائیں ران پر بیٹھو۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 859]
اس روایت میں قراۃ فاتحہ کی تصریح ہے اور یہ «ما تيسر من القران» کی تفسیر و توضیح ہے۔