سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب صَلاَةِ مَنْ لاَ يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ باب: رکوع اور سجدہ میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھنے والے کی نماز کا حکم۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاضٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْمُثَنَّى ،حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى ، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ السَّلَامَ ، وَقَالَ : ارْجِعْ فَصَلِّ ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ، فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى كَمَا كَانَ صَلَّى ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ، ثُمَّ قَالَ : ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَعَلِّمْنِي ، قَالَ : " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ اجْلِسْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا " . قَالَ الْقَعْنَبِيُّ : عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : " فَإِذَا فَعَلْتَ هَذَا ، فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ هَذَا شَيْئًا ، فَإِنَّمَا انْتَقَصْتَهُ مِنْ صَلَاتِكَ ، وَقَالَ فِيهِ : إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ " .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو ایک شخص اس نے نماز پڑھی پھر آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا : ” واپس جاؤ ، پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی “ ، وہ شخص واپس گیا اور پھر سے اسی طرح نماز پڑھی جس طرح پہلے پڑھی تھی ، پھر آ کر سلام کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اور تم پر بھی سلامتی ہو ، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے “ ، یہاں تک کہ تین بار ایسا ہوا ، پھر اس شخص نے عرض کیا : قسم ہے اس ذات کی ، جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ! میں اس سے اچھی نماز پڑھنا نہیں جانتا تو آپ مجھے سکھا دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو ( پہلے ) تکبیر کہو ، پھر جتنا قرآن بآسانی پڑھ سکتے ہو پڑھو ، اس کے بعد اطمینان سے رکوع کرو ، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ ، اس کے بعد اطمینان سے سجدہ کرو ، پھر اطمینان سے قعدہ میں بیٹھو ، اسی طرح اپنی پوری نماز میں کرو “ ۔ قعنبی نے «عن سعيد بن أبي سعيد المقبري ، عن أبي هريرة» کہا ہے اور اس کے اخیر میں یوں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نے ایسا کر لیا تو تمہاری نماز مکمل ہو گئی ، اور اگر تم نے اس میں کچھ کم کیا تو اپنی نماز میں کم کیا “ ، اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو کامل وضو کرو “ ۱؎ ۔