سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب مَا يُجْزِئُ الأُمِّيَّ وَالأَعْجَمِيَّ مِنَ الْقِرَاءَةِ باب: ان پڑھ (اُمّی) اور عجمی کے لیے کتنی قرآت کافی ہے؟
حدیث نمبر: 834
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، مِثْلَهُ لَمْ يَذْكُرِ التَّطَوُّعَ . قَالَ : كَانَ الْحَسَنُ " يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ إِمَامًا أَوْ خَلْفَ إِمَامٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَيُسَبِّحُ وَيُكَبِّرُ وَيُهَلِّلُ قَدْرَ ق ، وَالذَّارِيَاتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حمید سے اسی کے مثل مروی ہے ، اس میں راوی نے نفل کا ذکر نہیں کیا ہے ، اس میں ہے کہ` حسن بصری ظہر اور عصر میں خواہ وہ امام ہوں یا امام کے پیچھے ہوں ، سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے اور سورۃ ” ق “ اور سورۃ ” ذاریات “ پڑھنے کے بقدر ( وقت میں ) تسبیح و تکبیر اور تہلیل کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ان پڑھ (اُمّی) اور عجمی کے لیے کتنی قرآت کافی ہے؟`
حمید سے اسی کے مثل مروی ہے، اس میں راوی نے نفل کا ذکر نہیں کیا ہے، اس میں ہے کہ حسن بصری ظہر اور عصر میں خواہ وہ امام ہوں یا امام کے پیچھے ہوں، سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے اور سورۃ ”ق“ اور سورۃ ”ذاریات“ پڑھنے کے بقدر (وقت میں) تسبیح و تکبیر اور تہلیل کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 834]
حمید سے اسی کے مثل مروی ہے، اس میں راوی نے نفل کا ذکر نہیں کیا ہے، اس میں ہے کہ حسن بصری ظہر اور عصر میں خواہ وہ امام ہوں یا امام کے پیچھے ہوں، سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے اور سورۃ ”ق“ اور سورۃ ”ذاریات“ پڑھنے کے بقدر (وقت میں) تسبیح و تکبیر اور تہلیل کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 834]
834۔ اردو حاشیہ:
پہلی حدیث منقطع ہے، اور دوسری جناب حسن بصری رحمہ اللہ کا عمل۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت اعمال ہی میں خیر اور نجات ہے اور اس قدر ضرور ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اثنائے قرات میں آیات رحمت پر دعا اور آیات عذاب پر تعوذ اور استغفار کیا کرتے تھے۔ ایسے ہی قنوت میں سجدوں کے درمیان رکوع اور سجدوں میں تشہد کے بعد حسب حال دعائیں وارد ہیں اور کی جا سکتی ہیں۔
پہلی حدیث منقطع ہے، اور دوسری جناب حسن بصری رحمہ اللہ کا عمل۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت اعمال ہی میں خیر اور نجات ہے اور اس قدر ضرور ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اثنائے قرات میں آیات رحمت پر دعا اور آیات عذاب پر تعوذ اور استغفار کیا کرتے تھے۔ ایسے ہی قنوت میں سجدوں کے درمیان رکوع اور سجدوں میں تشہد کے بعد حسب حال دعائیں وارد ہیں اور کی جا سکتی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 834 سے ماخوذ ہے۔