حدیث نمبر: 807
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَهُشَيْمٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَجَدَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ، فَرَأَيْنَا أَنَّهُ قَرَأَ تَنْزِيلَ السَّجْدَةِ " . قَالَ ابْنُ عِيسَى : لَمْ يَذْكُرْ أُمَيَّةَ أَحَدٌ إِلَّا مُعْتَمِرٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر میں سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے اور رکوع کیا تو ہم نے جانا کہ آپ نے الم تنزیل السجدہ پڑھی ہے ۔ ابن عیسیٰ کہتے ہیں : معتمر کے علاوہ کسی نے بھی ( سند میں ) امیہ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 807
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سليمان التيمي لم يسمعه من أبي مجلز بل سمعه من أمية (انظر مسند أحمد 83/2), وأمية : مجهول كما في التقريب (561), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 42
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8559)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/83) (ضعیف) » (اس کے راوی أمیہ مجہول ہیں، نیز سند میں ان کا ہونا نہ ہونا مختلف فیہ ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ظہر اور عصر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر میں سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے اور رکوع کیا تو ہم نے جانا کہ آپ نے الم تنزیل السجدہ پڑھی ہے۔ ابن عیسیٰ کہتے ہیں: معتمر کے علاوہ کسی نے بھی (سند میں) امیہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 807]
807۔ اردو حاشیہ:
حدیث ضعیف ہے، اس لئے یہ واقعہ تو صحیح نہیں۔ تاہم یہ واضح ہے کہ اگر نماز میں سجدہ تلاوت والی آیات پڑھی جائے، تو سجدہ تلاوت کرنا بہتر ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 807 سے ماخوذ ہے۔