سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ باب: ظہر اور عصر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 806
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ صَلَّى الظُّهْرَ ، وَقَرَأَ بِنَحْوٍ مِنْ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ، وَالْعَصْرِ كَذَلِكَ ، وَالصَّلَوَاتِ كَذَلِكَ إِلَّا الصُّبْحَ فَإِنَّهُ كَانَ يُطِيلُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھتے اور اس میں «والليل إذا يغشى» جیسی سورت پڑھتے تھے ، اسی طرح عصر میں اور اسی طرح بقیہ نمازوں میں پڑھتے سوائے فجر کے کہ اسے لمبی کرتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 673 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نماز ظہر کا وقت۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 673]
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 673]
اردو حاشہ: (1)
ظہر کی نماز کا وقت سورج ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے جیسے کہ آیت مبارکہ ﴿اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ﴾ (بني اسرائيل: 17؍78)
نماز قائم کریں سورج کے ڈھلنے پر۔
سے یہی ثابت ہوتا ہے۔
(2)
نبی ﷺ کا عمل اوّل وقت میں نماز ادا کرنا ہے۔
ظہر کی نماز کا وقت سورج ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے جیسے کہ آیت مبارکہ ﴿اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ﴾ (بني اسرائيل: 17؍78)
نماز قائم کریں سورج کے ڈھلنے پر۔
سے یہی ثابت ہوتا ہے۔
(2)
نبی ﷺ کا عمل اوّل وقت میں نماز ادا کرنا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 673 سے ماخوذ ہے۔