حدیث نمبر: 796
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَنَمَةَ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَنْصَرِفُ وَمَا كُتِبَ لَهُ إِلَّا عُشْرُ صَلَاتِهِ تُسْعُهَا ثُمْنُهَا سُبْعُهَا سُدْسُهَا خُمْسُهَا رُبْعُهَا ثُلُثُهَا نِصْفُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” آدمی ( نماز پڑھ کر ) لوٹتا ہے تو اسے اپنی نماز کے ثواب کا صرف دسواں ، نواں ، آٹھواں ، ساتواں ، چھٹا ، پانچواں ، چوتھا ، تیسرا اور آدھا ہی حصہ ملتا ہے ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: جب نماز کے شرائط، ارکان یا خشوع و خضوع میں کسی طرح کی کمی ہوتی ہے تو پوری نماز کا ثواب نہیں لکھا جاتا بلکہ ثواب کم ہو جاتا ہے، بلکہ کبھی وہ نماز الٹ کر پڑھنے والے کے منھ پر مار دی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 796
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, محمد بن عجلان عنعن, وللحديث شواهد ضعيفة،منھا حديث عبد اللّٰه بن وهب (وھو مدلس) و عنعن و صرح بالسماع في رواية عمرو بن مالك الضعيف, و حديث النسائي (الكبري : 614 وسنده حسن) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 41
تخریج حدیث « سنن النسائی/الکبری: کتاب السہو 130 (612)، (تحفة الأشراف: 10359)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/321) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نماز کے ثواب میں کمی ہونے کا بیان۔`
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: آدمی (نماز پڑھ کر) لوٹتا ہے تو اسے اپنی نماز کے ثواب کا صرف دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھا، تیسرا اور آدھا ہی حصہ ملتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 796]
796۔ اردو حاشیہ:
ظاہر ہے کہ یہ نقصان نماز میں وسوسے اور ادھر ادھر خیال بٹنے کی وجہ سے اور خشوع و خضوع اور تعدیل ارکان وغیرہ میں کمی کے باعث ہوتا ہے۔ یہ حدیث شریف مسلمانوں کے تمام طبقات علماء و عوام سب کو اپنے پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی نمازوں کی اصلاح کرتے رہنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 796 سے ماخوذ ہے۔