حدیث نمبر: 793
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، ذَكَرَ قِصَّةَ مُعَاذٍ ، قَالَ : وَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْفَتَى : " كَيْفَ تَصْنَعُ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا صَلَّيْتَ ؟ قَالَ : أَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَأَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي مَا دَنْدَنَتُكَ وَلَا دَنْدَنَةُ مُعَاذٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي وَمُعَاذٌ حَوْلَ هَاتَيْنِ ، أَوْ نَحْوَ هَذَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی اللہ عنہ معاذ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان سے پوچھا : ” میرے بھتیجے ! جب تم نماز پڑھتے ہو تو اس میں کیا پڑھتے ہو ؟ “ ، اس نے کہا : میں ( نماز میں ) سورۃ فاتحہ پڑھتا ہوں ، اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں ، اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں ، لیکن مجھے آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ سمجھ میں نہیں آتی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اور معاذ بھی انہی دونوں کے اردگرد ہوتے ہیں “ ، یا اسی طرح کی کوئی بات کہی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 793
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, محمد بن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (3/302) وانظر الحديث السابق (599)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2391)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/302) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نماز ہلکی پڑھنے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ معاذ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان سے پوچھا: "میرے بھتیجے! جب تم نماز پڑھتے ہو تو اس میں کیا پڑھتے ہو؟"، اس نے کہا: میں (نماز میں) سورۃ فاتحہ پڑھتا ہوں، اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں، اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں، لیکن مجھے آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ سمجھ میں نہیں آتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں اور معاذ بھی انہی دونوں کے اردگرد ہوتے ہیں"، یا اسی طرح کی کوئی بات کہی۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 793]
793۔ اردو حاشیہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن تعلیم و تربیت کا یہ انداز دلوں کو موہ لینے والا اور سادہ لوح مسلمانوں کی حسنات پر استقامت کا باعث تھا۔ اس میں مدرسین اور داعی حضرات کے لئے بہت بڑا در س ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 793 سے ماخوذ ہے۔